سنن ابن ماجه
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
بَابُ : إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ وَرِثَ باب: پیدا ہوتے ہی رونے والے بچہ کے وارث ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2751
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا " ، قَالَ : وَاسْتِهْلَالُهُ أَنْ يَبْكِيَ وَيَصِيحَ أَوْ يَعْطِسَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ولادت کے وقت ) بچہ وارث نہیں ہو گا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے “ ۱؎ ۔ راوی کہتے ہیں : بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روئے یا چیخے یا چھینکے ۔
وضاحت:
۱؎: غرض کوئی کام ایسا کرے جس سے اس کی زندگی ثابت ہو تو وہ وارث ہو گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پیدا ہوتے ہی رونے والے بچہ کے وارث ہونے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (ولادت کے وقت) بچہ وارث نہیں ہو گا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے “ ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روئے یا چیخے یا چھینکے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2751]
جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (ولادت کے وقت) بچہ وارث نہیں ہو گا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے “ ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روئے یا چیخے یا چھینکے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2751]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مردہ پیدا ہونے والا بچہ اپنے سے فوت ہونے والے کا وارث نہیں ہوتا۔
(2)
آواز نکالنا زندہ پیدا ہونے کی علامت ہے۔
عام طور پر بچہ پیدا ہونے کے بعد روتا ہے، اس لیے رونے کا ذکر کیا گیا، ورنہ کوئی بھی ایسی علامت جس سے بچے کے زندہ ہونے کا یقین ہو جائے، کافی ہے۔
(3)
مذکورہ صورت میں وراثت کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے بچے کوزندہ فرض کرکے میت کا ترکہ تقسیم کیا جائے اور بچے کا حصہ معلوم کیا جائے، پھربچے کے فوت ہوجانے کی وجہ سے اس کا حصہ اس کے وارثوں میں تقسیم کردیا جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مردہ پیدا ہونے والا بچہ اپنے سے فوت ہونے والے کا وارث نہیں ہوتا۔
(2)
آواز نکالنا زندہ پیدا ہونے کی علامت ہے۔
عام طور پر بچہ پیدا ہونے کے بعد روتا ہے، اس لیے رونے کا ذکر کیا گیا، ورنہ کوئی بھی ایسی علامت جس سے بچے کے زندہ ہونے کا یقین ہو جائے، کافی ہے۔
(3)
مذکورہ صورت میں وراثت کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے بچے کوزندہ فرض کرکے میت کا ترکہ تقسیم کیا جائے اور بچے کا حصہ معلوم کیا جائے، پھربچے کے فوت ہوجانے کی وجہ سے اس کا حصہ اس کے وارثوں میں تقسیم کردیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2751 سے ماخوذ ہے۔