سنن ابن ماجه
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
بَابُ : قِسْمَةِ الْمَوَارِيثِ باب: میراث (ترکہ) کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2749
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعًا يُخْبِرُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْإِسْلَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہو چکی ، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی ، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کیسا عمدہ مسئلہ حل ہوا کہ ہر قانون کا عمل اس کے نفاذ کے بعد سے جو مقدمات پیدا ہوں ان پر ہوتا ہے اور جن مقدمات کے فیصلے قانون کے نفاذ سے پہلے ہو چکے ہوں ان میں اس قانون کے نفاذ سے کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´میراث (ترکہ) کی تقسیم کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہو چکی، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2749]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہو چکی، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2749]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جو کام اسلام قبول کرنے سے پہلے خلاف اسلام کیے گئےہوں، اسلام لانے سے وہ معاف ہو جاتے ہیں، البتہ اگر ان کی اصلاح ممکن ہو تو اصلاح ضروری ہے، مثلاً: اگر کسی کے نکاح میں دو عورتیں تھیں جو آپس میں بہنیں تھیں، اسلام قبول کرنے سے پہلے ان سے جو اولاد ہوئی: وہ جائز اولاد شمار ہوگی لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ان میں سے ایک کو طلاق دینا ضروری ہوگا۔
(2)
زنا جاہلیت میں بھی معیوب اور برا کا م سمجھا جاتا تھا اور جائز اور ناجائز اولاد میں فرق کیا جاتا تھا، اس لیےاسلام قبول کرنے سے پہلے ناجائز تعلق کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کو جائز اولاد کا مقام نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ باب 14 میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
جو کام اسلام قبول کرنے سے پہلے خلاف اسلام کیے گئےہوں، اسلام لانے سے وہ معاف ہو جاتے ہیں، البتہ اگر ان کی اصلاح ممکن ہو تو اصلاح ضروری ہے، مثلاً: اگر کسی کے نکاح میں دو عورتیں تھیں جو آپس میں بہنیں تھیں، اسلام قبول کرنے سے پہلے ان سے جو اولاد ہوئی: وہ جائز اولاد شمار ہوگی لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ان میں سے ایک کو طلاق دینا ضروری ہوگا۔
(2)
زنا جاہلیت میں بھی معیوب اور برا کا م سمجھا جاتا تھا اور جائز اور ناجائز اولاد میں فرق کیا جاتا تھا، اس لیےاسلام قبول کرنے سے پہلے ناجائز تعلق کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کو جائز اولاد کا مقام نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ باب 14 میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2749 سے ماخوذ ہے۔