سنن ابن ماجه
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
بَابٌ في ادِّعَاءِ الْوَلَدِ باب: بچے کا دعویٰ کرنا اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2745
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَاهَرَ أَمَةً أَوْ حُرَّةً فَوَلَدُهُ وَلَدُ زِنًا ، لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا ، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے ، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا ، نہ وہ بچہ اس مرد کا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بچے کا دعویٰ کرنا اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2745]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2745]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ترکہ وغیرہ کے مسائل میں شرعی طور پر اسی نسب کا اعتبار ہے جس کی بنیاد نکاح کے شرعی تعلق پر ہو۔
زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ اگرچہ حقیقت میں زانی کا بیٹا ہے لیکن اس کا یہ رشتہ قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ اس کے مرنے کی صورت میں یہ شخص اس کا وارث بن سکتا ہے۔
(2)
ماں کا رشتہ ثابت ہونے میں تعلق کے جائز یا ناجائز ہونے سے فرق نہیں پڑتا، اس لیے ناجائز بچہ اور اس کی ماں کے درمیان وراثت کا تعلق قائم ہوتا ہے۔
اسی طرح ننھیالی رشتے داروں سے بھی اس کا وراثت کا تعلق قائم رہتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ترکہ وغیرہ کے مسائل میں شرعی طور پر اسی نسب کا اعتبار ہے جس کی بنیاد نکاح کے شرعی تعلق پر ہو۔
زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ اگرچہ حقیقت میں زانی کا بیٹا ہے لیکن اس کا یہ رشتہ قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ اس کے مرنے کی صورت میں یہ شخص اس کا وارث بن سکتا ہے۔
(2)
ماں کا رشتہ ثابت ہونے میں تعلق کے جائز یا ناجائز ہونے سے فرق نہیں پڑتا، اس لیے ناجائز بچہ اور اس کی ماں کے درمیان وراثت کا تعلق قائم ہوتا ہے۔
اسی طرح ننھیالی رشتے داروں سے بھی اس کا وراثت کا تعلق قائم رہتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2745 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2113 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ولد الزنا کی میراث باطل ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی آزاد عورت یا کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرے تو (اس سے پیدا ہونے والا) لڑکا ولد الزنا ہو گا، نہ وہ (اس زانی کا) وارث ہو گا۔ نہ زانی (اس کا) وارث ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2113]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی آزاد عورت یا کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرے تو (اس سے پیدا ہونے والا) لڑکا ولد الزنا ہو گا، نہ وہ (اس زانی کا) وارث ہو گا۔ نہ زانی (اس کا) وارث ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2113]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2113 سے ماخوذ ہے۔