حدیث نمبر: 2743
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَلْحَقَتْ بِقَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ وَلَنْ يُدْخِلَهَا جَنَّتَهُ ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدَهُ وَقَدْ عَرَفَهُ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس عورت نے کسی قوم میں ایسے ( بچہ ) کو ملا دیا جو ان میں سے نہیں تھا ، تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ، اور وہ اس کی جنت میں ہرگز داخل نہ ہو گی ، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کو پہچان لینے کے باوجود انکار کر دیا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرے گا ، اور سب کے سامنے اس کو ذلیل و رسوا کرے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفرائض / حدیث: 2743
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13075 ، ومصباح الزجاجة : 969 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطلاق 29 ( 2263 ) ، سنن النسائی/الطلاق 47 ( 3511 ) ، سنن الدارمی/النکاح 42 ( 2284 ) ( ضعیف ) » ( سند میں یحییٰ بن حرب مجہول ، اور موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3511 | سنن ابي داود: 2263 | بلوغ المرام: 942

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3511 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´لڑکے کا انکار کرنے پر وارد وعید اور شناعت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو عورت کسی قوم (خاندان و قبیلے) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم (خاندان و قبیلے) کا نہ ہو (یعنی زنا و بدکاری کرے) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور (ایسے ہی) جو شخص اپنے بیٹے کا (کسی بھی سبب سے) انکار کر دے اور دیکھ ر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3511]
اردو حاشہ: (1) جو ان میں سے نہیں یعنی وہ زنا کا نتیجہ ہے مگر منسوب خاوند کی طرف ہی کرے۔
(2) اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں مبالغہ ہے۔ ظاہر الفاظ مقصود نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بہت بڑا گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔ یا آئندہ آنے والا جملہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا۔ اس کی تفسیر ہے۔
(3) جب کہ وہ بچہ اسے دیکھ رہا ہو‘ یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے: جبکہ وہ آدمی بچے کو دیکھ رہا ہو کہ واقعتا میرا ہے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3511 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2263 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بچے کے نسب سے انکار پر وارد وعید کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2263]
فوائد ومسائل:
کوئی عورت کہیں بدکاری کرے اور حاملہ ہو جائے اور پھر بچے کو شوہر اور اس کی قوم سے ملادے یا کوئی باپ بلاوجہ معقول ومشروع بچے سے انکار کردے تو یہ انتہائی مکروہ اور غلیظ کام ہے۔
اور یہ دونوں عمل کبائر میں سے ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2263 سے ماخوذ ہے۔