حدیث نمبر: 2741
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَوْسَجَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعْ لَهُ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مر گیا ، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے ، جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفرائض / حدیث: 2741
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الفرائض 8 ( 2905 ) ، سنن الترمذی/الفرائض 14 ( 2106 ) ، ( تحفة الأشراف : 6326 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/221 ، 358 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عوسجہ کی وجہ سے ضعف ہے ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 1669 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2106 | سنن ابي داود: 2905 | مسند الحميدي: 533

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2106 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´غلام کی میراث کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی مر گیا اور اپنے پیچھے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث دے دی۔ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2106]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عوسجہ مجہول راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2106 سے ماخوذ ہے۔