سنن ابن ماجه
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
بَابُ : مِيرَاثِ الْقَاتِلِ باب: قاتل کی میراث کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قاتل وارث نہ ہو گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قاتل کی میراث کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قاتل وارث نہ ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2735]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قاتل وارث نہ ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2735]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قتل وراثت سے محرومی کا باعث ہے، یعنی اگر قاتل مقتول سے ایسا رشتہ رکھتا ہو جس کی بنا پروہ وراثت میں حصے کا مستحق ہے تو قتل کی وجہ سے وہ اپنے اس حق سے محروم ہو جائے گا۔
(2)
یہ حکم ہر قاتل کے لیے ہے، خواہ اصحاب الفروض میں سے ہو یا عصبہ میں سے ہو، مثلاً: اگر ایک شخص کے دوبیٹے ہوں، ان میں سے ایک اپنے باپ کا قتل کردے تو مقتول کے ترکے میں سے اصحاب الفروض کا حصہ نکال کرباقی مال مقتول کےاس بیٹے کو ملے گا جو قتل کے جرم میں شریک نہیں۔
دوسرا بیٹا جو قاتل ہے اسے کچھ نہیں ملے گا۔
(3)
قتل کا محرک بعض دفعہ یہ جذبہ بھی ہوتا ہے کہ قاتل مقتول کی وراثت جلد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
حدیث میں مذکورہ قانون کی وجہ سے یہ محرک ختم ہوجاتا ہے۔
اس طرح یہ قانون انسانوں کی جانوں کا محافظ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
قتل وراثت سے محرومی کا باعث ہے، یعنی اگر قاتل مقتول سے ایسا رشتہ رکھتا ہو جس کی بنا پروہ وراثت میں حصے کا مستحق ہے تو قتل کی وجہ سے وہ اپنے اس حق سے محروم ہو جائے گا۔
(2)
یہ حکم ہر قاتل کے لیے ہے، خواہ اصحاب الفروض میں سے ہو یا عصبہ میں سے ہو، مثلاً: اگر ایک شخص کے دوبیٹے ہوں، ان میں سے ایک اپنے باپ کا قتل کردے تو مقتول کے ترکے میں سے اصحاب الفروض کا حصہ نکال کرباقی مال مقتول کےاس بیٹے کو ملے گا جو قتل کے جرم میں شریک نہیں۔
دوسرا بیٹا جو قاتل ہے اسے کچھ نہیں ملے گا۔
(3)
قتل کا محرک بعض دفعہ یہ جذبہ بھی ہوتا ہے کہ قاتل مقتول کی وراثت جلد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
حدیث میں مذکورہ قانون کی وجہ سے یہ محرک ختم ہوجاتا ہے۔
اس طرح یہ قانون انسانوں کی جانوں کا محافظ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2735 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2109 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قاتل کی میراث باطل ہونے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2109]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2109]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں اسحاق بن ابی فروہ ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص، اور ابن عباس کے شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 1670، 1671، 1672)
نوٹ:
(سند میں اسحاق بن ابی فروہ ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص، اور ابن عباس کے شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 1670، 1671، 1672)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2109 سے ماخوذ ہے۔