سنن ابن ماجه
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
بَابُ : مِيرَاثِ الْوَلاَءِ باب: ولاء یعنی غلام آزاد کرنے پر حاصل ہونے والے حق وراثت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2734
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ بِنْتِ حَمْزَةَ ، قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَى وَهِيَ أُخْتُ ابْنِ شَدَّادٍ لِأُمِّهِ ، قَالَتْ : " مَاتَ مَوْلَايَ وَتَرَكَ ابْنَةً فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنَتِهِ فَجَعَلَ لِي النِّصْفَ وَلَهَا النِّصْفَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شداد کی اخیافی بہن بنت حمزہ کہتی ہیں کہ` میرا ایک غلام فوت ہو گیا ، اس نے ایک بیٹی چھوڑی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کیا ، اور مجھے اور اس کی بیٹی کو آدھا آدھا دیا ، ( بیٹی کو بطور فرض اور بہن کو بطور عصبہ ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ولاء یعنی غلام آزاد کرنے پر حاصل ہونے والے حق وراثت کا بیان۔`
عبداللہ بن شداد کی اخیافی بہن بنت حمزہ کہتی ہیں کہ میرا ایک غلام فوت ہو گیا، اس نے ایک بیٹی چھوڑی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کیا، اور مجھے اور اس کی بیٹی کو آدھا آدھا دیا، (بیٹی کو بطور فرض اور بہن کو بطور عصبہ)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2734]
عبداللہ بن شداد کی اخیافی بہن بنت حمزہ کہتی ہیں کہ میرا ایک غلام فوت ہو گیا، اس نے ایک بیٹی چھوڑی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کیا، اور مجھے اور اس کی بیٹی کو آدھا آدھا دیا، (بیٹی کو بطور فرض اور بہن کو بطور عصبہ)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2734]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الإرواء للألبانی، رقم: 1596)
بنابریں اگر فوت ہونے والے کی ایک بیٹی ہو تو اس بیٹی کو ترکے میں سے نصف ملتا ہے، چنانچہ مذکورہ بالا واقعے میں متوفی کی بیٹی کو نصف ترکہ دیا گیا۔
باقی عصبہ کا حق تھا، وہ آزاد کرنے والی صحابیہ رضی اللہ عنہا کو ملا کیونکہ متوفی کا اور کوئی عصبہ نہیں تھا۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الإرواء للألبانی، رقم: 1596)
بنابریں اگر فوت ہونے والے کی ایک بیٹی ہو تو اس بیٹی کو ترکے میں سے نصف ملتا ہے، چنانچہ مذکورہ بالا واقعے میں متوفی کی بیٹی کو نصف ترکہ دیا گیا۔
باقی عصبہ کا حق تھا، وہ آزاد کرنے والی صحابیہ رضی اللہ عنہا کو ملا کیونکہ متوفی کا اور کوئی عصبہ نہیں تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2734 سے ماخوذ ہے۔