حدیث نمبر: 2727
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " ثَلَاثٌ لَأَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيَّنَهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا الْكَلَالَةُ وَالرِّبَا وَالْخِلَافَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بیان فرما دیتے تو میرے لیے یہ دنیا و مافیہا سے زیادہ پسندیدہ ہوتا ، یعنی کللہ ، سود اور خلافت ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفرائض / حدیث: 2727
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مرة بن شراحيل عن عمر مرسل كما قال أبو حاتم الرازي (المراسيل ص 208), وأصل الحديث متفق عليه (البخاري: 5588،مسلم: 3032) ولم يذكرا الخلافة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 477
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10640 ، ومصباح الزجاجة : 967 ) ( ضعیف ) » ( سند میں مرہ بن شراحیل اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کلالہ کا بیان۔`
مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بیان فرما دیتے تو میرے لیے یہ دنیا و مافیہا سے زیادہ پسندیدہ ہوتا، یعنی کللہ، سود اور خلافت۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2727]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ محققین نے کہا ہے، تاہم بخاری و مسلم میں حضرت عمربن خطاب ؓ سے کلالہ اور سود کا ذکر ملتا ہے، خلافت کا نہیں، لہٰذا مذکورہ روایت بیان کردہ دوباتوں کی توثیق و تائید صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے ہوجاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت ’’خلافت‘‘ کے ذکر کے علاوہ قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: مذکورہ حدیث کی تحقیق و تخریج۔

(2)
  کلالہ کے بھائی بہن تین طرح کے ہوسکتے ہیں: (ا)
حقیقی
(ب)
علاتی
(ج)
اخیافی۔

پہلے دو طرح کے بھائی بہنوں کا حکم سورۂ نساء کی آیت176 میں بیان کردیا گیا ہے اور تیسری قسم کے بہن بھائیوں کا حکم سورۂ نساء کی آیت 12میں بیان کردیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2727 سے ماخوذ ہے۔