سنن ابن ماجه
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
بَابُ : الْحَثِّ عَلَى تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ باب: علم فرائض (میراث) سیکھنے سکھانے کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 2719
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعِطَافِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا فَإِنَّهُ نِصْفُ الْعِلْمِ وَهُوَ يُنْسَى وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُنْتَزَعُ مِنْ أُمَّتِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوہریرہ ! علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ ، اس لیے کہ وہ علم کا آدھا حصہ ہے ، وہ بھلا دیا جائے گا ، اور سب سے پہلے یہی علم میری امت سے اٹھایا جائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´علم فرائض (میراث) سیکھنے سکھانے کی ترغیب۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابوہریرہ! علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ، اس لیے کہ وہ علم کا آدھا حصہ ہے، وہ بھلا دیا جائے گا، اور سب سے پہلے یہی علم میری امت سے اٹھایا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2719]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابوہریرہ! علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ، اس لیے کہ وہ علم کا آدھا حصہ ہے، وہ بھلا دیا جائے گا، اور سب سے پہلے یہی علم میری امت سے اٹھایا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2719]
اردو حاشہ:
فائدہ: علم اٹھائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو سیکھنے سکھانے کی طرف متوجہ نہ کرنے کی وجہ سے اس کے جاننے والے ختم ہوجائیں گے اور امت میں سے یہ علم اٹھ جائے گا۔
فائدہ: علم اٹھائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو سیکھنے سکھانے کی طرف متوجہ نہ کرنے کی وجہ سے اس کے جاننے والے ختم ہوجائیں گے اور امت میں سے یہ علم اٹھ جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2719 سے ماخوذ ہے۔