حدیث نمبر: 2711
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الثُّلُثُ كَبِيرٌ أَوْ كَثِيرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میری تمنا ہے کہ لوگ تہائی مال کے بجائے چوتھائی مال میں وصیت کریں ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک تہائی حصہ بھی بڑا ہے یا زیادہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الوصايا / حدیث: 2711
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الوصایا 3 ( 2743 ) ، صحیح مسلم/الوصایا1 ( 1629 ) ، سنن النسائی/الوصایا 3 ( 3664 ) ، ( تحفة الأ شراف : 8404 ) ، وقد آخرجہ : مسند احمد ( 1/230 ، 233 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2743 | صحيح مسلم: 1629 | سنن نسائي: 3664 | مسند الحميدي: 531

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1629 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام اپنے تین اساتذہ کی تین سندوں سے، ہشام بن عروہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ اگر لوگ تہائی میں کمی کر کے، چوتھائی مال کے بارے میں وصیت کر لیں، (تو بہت ہے) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ’’تہائی، اور تہائی بہت ہے۔‘‘ وکیع کی روایت میں ہے، ’’بڑا ہے یا بہت ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4218]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بعض صحابہ و تابعین سے چوتھائی سے بھی کم کرنے کے اقوال منقول ہیں، اصل چیز یہ ہے، کہ وصیت کرنے والا اپنے ترکہ کی مقدار اور اپنے ورثاء کی تعداد اور ان کی ضروریات کا لحاظ کرتے ہوئے، تہائی سے کم کرے گا، لیکن اپنی زندگی میں فی سبیل اللہ یا نیک کاموں میں جس قدر چاہے صرف کر سکتا ہے، اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4218 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 531 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
531- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر لوگ وصیت کے بارے میں ایک چوتھائی حصے پر اکتفاء کریں، تو یہ میرے نزدیک زیادہ بسندیدہ ہوگا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: "ایک تہائی (کے بارے میں وصیت کرنے کی اجازت ہے) ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:531]
فائدہ:
اس حدیث میں وصیت کی حد متعین کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تیسرے حصے کی وصیت کرنا درست ہے، اس سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ افسوس کہ بعض لوگ غصے میں آ کر یا کسی سے زیادہ محبت کی غرض سے سارے مال ہی کی وصیت کر جاتے ہیں، یہ گناہ ہے، اور مؤثر بھی نہیں ہے، جو شخص ایسی وصیت کر دے تو اس کی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 531 سے ماخوذ ہے۔