سنن ابن ماجه
كتاب الوصايا— کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الإِمْسَاكِ فِي الْحَيَاةِ وَالتَّبْذِيرِ عِنْدَ الْمَوْتِ باب: زندگی میں بخیلی اور موت کے وقت فضول خرچی سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 2707
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَفِّهِ ثُمَّ وَضَعَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ وَقَالَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَّى تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ ، قُلْتَ : أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا ، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو ، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز ( منی ) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے ، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں ، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا “ ؟ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بلکہ صدقہ کا عمدہ وقت وہ ہے جب آدمی صحیح اور تندرست ہو، اور وہ مال کا محتاج ہو بہت دنوں تک جینے کی توقع ہو، لیکن ان سب باتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے اور اپنا عمدہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´زندگی میں بخیلی اور موت کے وقت فضول خرچی سے ممانعت۔`
بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز (منی) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا “؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2707]
بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز (منی) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا “؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2707]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اللہ تعالی انسان کا خالق ہے، وہ ہر لحاظ سے بندے پر قدرت رکھتا ہے جب کہ بندہ ہر لحاظ سے اس کا محتاج ہے۔
(2)
یہ اللہ کا احسان ہے کہ انسان کو ایک ناقابل ذکرحقیر چیز سے پیدا کرکے اسے اشرف المخلوقات بنا دیا۔
(3)
بعض مقامات پر صراحت کی بجائے کنائے کے الفاظ بولنا بہتر ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل:
اللہ تعالی انسان کا خالق ہے، وہ ہر لحاظ سے بندے پر قدرت رکھتا ہے جب کہ بندہ ہر لحاظ سے اس کا محتاج ہے۔
(2)
یہ اللہ کا احسان ہے کہ انسان کو ایک ناقابل ذکرحقیر چیز سے پیدا کرکے اسے اشرف المخلوقات بنا دیا۔
(3)
بعض مقامات پر صراحت کی بجائے کنائے کے الفاظ بولنا بہتر ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2707 سے ماخوذ ہے۔