حدیث نمبر: 2700
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” محروم وہ ہے جو وصیت کرنے سے محروم رہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الوصايا / حدیث: 2700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لضعف (يزيد بن أبان) الرقاشي والراوي عنه‘‘ درست بن زياد: ضعيف (د 3741) والرقاشي: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 476
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأ شراف : 1685 ، ومصباح الزجاجة : 955 ) ( ضعیف ) » ( یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´وصیت کی ترغیب۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " محروم وہ ہے جو وصیت کرنے سے محروم رہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2700]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت اکثر محققین کے نزدیک ضعیف ہے، تاہم حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص وصیت کیے بغیر فوت ہوگیا، وہ ان فوائد سے محروم رہ گیا جو اسے وصیت سے حاصل ہوسکتے تھے، مثلاً: صدقہ کرنے کی وصیت کرتا تو اس کے بعد میں اس کا ثواب ملتا، قرض کی ادائیگی کی وصیت کرتا تو وارث اس کا قرض ادا کردیتے اور وہ بری الذمہ ہوجاتا۔
فوت ہوجانے کے بعد اس کوتاہی کی تلافی ناممکن ہے، اس لیے ایسا شخص بہت سی خیر سے محروم رہ گیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2700 سے ماخوذ ہے۔