حدیث نمبر: 2688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ ، قَالَ : لَوْلَا كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ ، فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ` اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا ، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی کو جان کی امان دی ، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الديات / حدیث: 2688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10730 ، ومصباح الزجاجة : 951 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/223 ، 224 ، 436 ، 437 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 781 | معجم صغير للطبراني: 915

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟`
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کو امان دے کر قتل کر دینا بہت بڑا گناہ ہے۔

(2)
عہد شکنی اتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن ایسے مجرم کے جسم پر جھنڈا نصب ہوگا جس سے ہر شخص کو معلوم ہوجائے گاکہ فلاں شخص عہد شکن ہے۔
اس طرح اس کی سخت بدنامی ہوگی۔

(3)
مختار بن عبید ثقفی نے حضرت حسین ؓ کی شہادت کے بعد ان کے انتقام کا نعرہ بلند کیا اور اس طرح عوام کی ہمدردیاں حاصل کی۔
حضرت حسین ؓ کے قاتلوں سے انتقام لینے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اسے عوام کی محبت او رہمدردی حاصل ہوگئی ہے تو نبوت کا دعویٰ کردیا او رلوگوں کو گمراہ کیا۔
حضرت مصعب بن زبیر ؓ نے اسے قتل کرکے اس فتنے کا خاتمہ کیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2688 سے ماخوذ ہے۔