سنن ابن ماجه
كتاب الديات— کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ مَثَّلَ بِعَبْدِهِ فَهُوَ حُرٌّ باب: جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹ دیا) تو وہ آزاد ہو جائے گا۔
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى السَّمَرْقَنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الصَّيْرَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَارِخًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ ؟ " ، قَالَ : سَيِّدِي رَآنِي أُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ ، فَجَبَّ مَذَاكِيرِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " ، فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ " ، قَالَ : عَلَى مَنْ نُصْرَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : يَقُولُ : أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَرَقَّنِي مَوْلَايَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ أَوْ مُسْلِمٍ " .
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا بات ہے “ ؟ وہ بولا : میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا ، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس آدمی کو میرے پاس لاؤ “ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ تم آزاد ہو ، غلام بولا : اللہ کے رسول ! میری مدد کون کرے گا ؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” کیا بات ہے “؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس آدمی کو میرے پاس لاؤ “ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2680]
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی شخص اپنے غلام کے اعضاء کاٹ دے تو آقا سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔
(2)
غلام سے اگر ایسی زیادتی کی جائےجس کی سزا قصاص ہے تو غلام کو آزاد کردیا جائے گا۔
(3)
اعضاء سے مراد ناک، کان یا ہاتھ پاؤں وغیرہ ہیں۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا: ” ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا؟ “ اس نے کہا: برا ہوا، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا، تو اسے غیرت آئی، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس شخص کو میرے پاس لاؤ “ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے (اس غلام سے) فرمایا: ” جاؤ تم آزاد ہو “ اس نے کہا: اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4519]
اگر کوئی مالک اپنے غلام پر ظلم کرے اور اس اعضاء کاٹ ڈالے تو غلام آزاد کردیا جائے گا۔
اور مالک سے قصاص لینے میں فقہاء کا اختلاف ہے، جیسا کہ اس کی مختصر تفصیل گزری۔