حدیث نمبر: 2678
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ ابْنَيْ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ ؟ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ ؟ قَالَ : فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا تَقْتُلَنَا ، قَالَ : فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے ، عبداللہ پر ظلم ہوا ، اور انہیں قتل کر دیا گیا ، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم کھاؤ اور ( دیت کے ) مستحق ہو جاؤ “ وہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو یہود ( قسم کھا کر ) تم سے بری ہو جائیں گے “ وہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الديات / حدیث: 2678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأ شراف : 8678 ، ومصباح الزجاجة : 949 ) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/القسامة 2 ( 4718 ) ( صحیح ) » ( سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ) ۔ لیکن شاہد کی بنا پر صحیح ہے
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4724

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4724 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ کے چھوٹے بیٹے کا خیبر کے دروازوں کے پاس قتل ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو گواہ لاؤ کہ کس نے قتل کیا ہے، میں اسے اس کی رسی سمیت تمہارے حوالے کروں گا ، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمیں گواہ کہاں سے ملیں گے؟ وہ تو انہیں کے دروازے پر قتل ہوا ہے، آپ نے فرمایا: تو پھر تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی ، وہ بولے: اللہ کے رسول! جسے میں نہیں جانتا ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4724]
اردو حاشہ: محقق کتاب نے اس روایت کی سند کو حسن قرار دیا ہے لیکن راجح بات یہ ہے کہ یہ روایت شاذ (ضعیف کی ایک قسم) ہے۔ مزید سابقہ حدیث کی وضاحت ملاحظہ فرمائیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4724 سے ماخوذ ہے۔