حدیث نمبر: 2675
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرَ جُبَارٌ ، وَالْعَجْمَاءَ جَرْحُهَا جُبَارٌ " ، وَالْعَجْمَاءُ : الْبَهِيمَةُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا ، وَالْجُبَارُ : هُوَ الْهَدْرُ الَّذِي لَا يُغَرَّمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا : ” کان بیکار ہے اور کنواں بیکار و رائیگاں ہے ، اور «عجماء» چوپائے وغیرہ حیوانات کو کہتے ہیں ، اور «جبار» ایسے نقصان کو کہتے ہیں جس میں جرمانہ اور تاوان نہیں ہوتا ، کنواں بیکار و رائیگاں ہے ، اور بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار و رائیگاں ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس میں تاوان اور جرمانہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الديات / حدیث: 2675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ، ابن ماجہ ، ( تحفة الأ شراف : 5063 ، ومصباح الزجاجة : 945 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/326 ، 327 ) ( صحیح ) » ( سند میں اسحاق بن یحییٰ اور عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے ، لیکن سابقہ شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )