حدیث نمبر: 2672
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جرم کا ذمہ دار نہ ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الديات / حدیث: 2672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأ شراف : 130 ، ومصباح الزجاجة : 943 ) ( حسن صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دوسرے کے جرم اور گناہ میں کسی اور کے نہ پکڑا جائے گا۔`
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جرم کا ذمہ دار نہ ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2672]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مجرم کے جرم کی سزا اس کے باپ، بیٹے، بھائی یا دوست وغیرہ کو نہیں دی جا سکتی۔

(2)
مفرور مجرم کو پکڑنے کے لیے اس کے اقارب پر سختی کرنا شرعاً ممنوع ہے۔

(3)
مشکوک شخص سےاقرار کرانے کے لینے مناسب حد تک سختی کی جا سکتی ہے۔

(4)
مشکوک یا مجرم شخص سے اس کے شریک جرم ساتھیوں کےبارے میں معلوم کرنے کےلیے مناسب حد تک سختی کی جاسکتی ہے بشرطیکہ ایسے قرائن موجود ہوں جن سےاس کا مشکوک و مجرم ہونا ظاہر ہوتا ہو۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2672 سے ماخوذ ہے۔