حدیث نمبر: 2647
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعْقِلَ الْمَرْأَةَ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا وَلَا يَرِثُوا مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا فَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت پر واجب دیت کو اس کے عصبہ ( باپ کے رشتہ دار ) ادا کریں گے ، لیکن اس عورت کی میراث سے انہیں وہی حصہ ملے گا جو ورثاء سے بچ جائے گا ، اگر عورت قتل کر دی جائے ، تو اس کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہو گی ، اور وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الديات / حدیث: 2647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأ شراف : 8715 ، ) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/القسامة 30 ( 4809 ) ( حسن ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4805

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4805 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خطا (غلطی) سے مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے: تیس اونٹنیاں ہیں جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں، اور آپ نے گاؤں والوں پر دیت کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4805]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث مبارکہ میں قتل خطا کی دیت کی مقدار کا بیان ہے اور وہ چار قسم کے سو اونٹ ہے، اس کی تفصیل حدیث مذکورہ میں بیان کر دی گئی ہے۔
(2) یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اصل دیت اونٹ ہی ہیں، تاہم اونٹ میسر نہ ہونے کی صورت میں سو اونٹوں کی قیمت دیت ہوگی، اگر اونٹ مہنگے ہوں گے تو دیت کی رقم یا زیادہ ہوگی اور اگر اونٹ سستے ہوں گے تو پھر دیت کی رقم بھی کم ہوگی۔ اگر کوئی شخص دیت میں گائے بیل دینا چاہے تو دیت دو سو گائے بیل ہوگی۔ اور اگر دیت بکریوں کی صورت میں ادا کرنا چاہے تو دو ہزار بکریاں دیت ہوگی۔
(3) قاتل سے قصاص لینا ورثاء کا حق ہے۔ وہ چاہیں تو قصاص لیں اور اگر چاہیں تو معاف کر دیں۔ مقتول کے ورثاء، یعنی ورثائے مال کے علاوہ دیگر عصبات (عزیز واقارب) وغیرہ کو قصاص لینے یا معافی دینے کا کوئی حق نہیں۔ ہاں، اگر مقتول کے ورثاء میں سے کوئی مرد یا عورت نہ ہو تو پھر دیگر عزیز واقارب کو یہ حق مل جائے گا۔ واللہ أعلم!
(4) مقتول کی دیت، اس کے دوسرے مال کی طرح اس کے ورثاء کا حق ہے، یعنی دیت بھی، انھی میں تقسیم ہوگی۔ پہلے اصحاب الفروض (جن کا حصہ شریعت نے مقرر کر دیا ہے) لیں گے، ان سے جو بچ جائے وہ عصبہ لیں گے۔ البتہ اگر کسی شخص سے خطا (غلطی سے) قتل ہو جائے تو اس کے ذمہ عائد ہونے والی دیت اس کے عصبہ ہی ادا کریں گے، عصبہ قریب ترین مذکر کو کہتے ہیں، مثلاً: بیٹے، پوتے، باپ، دادا، بھائی، بھتیجے، چچا، تایا، ان کی اولاد۔ اور ورثاء سے مراد وہ رشتے دار ہیں جن کا حصہ وراثت میں مقرر کیا گیا ہے۔
(5) یہ حدیث متعلقہ باب سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ البتہ آئندہ باب سے اس کا تعلق ہے اور سنن نسائی میں بہت جگہ ایسا ہوا ہے، خصوصاً جب کہ سابقہ باب کے تحت روایات زیادہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4805 سے ماخوذ ہے۔