سنن ابن ماجه
كتاب الديات— کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمِيرَاثِ مِنَ الدِّيَةِ باب: دیت کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَضَى لِحَمَلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ اللِّحْيَانِيِّ بِمِيرَاثِهِ مِنَ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا امْرَأَتُهُ الْأُخْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی لحیانی رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی کی دیت میں سے میراث دلائی جس کو ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دیت کی میراث کا بیان۔`
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی لحیانی رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی کی دیت میں سے میراث دلائی جس کو ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2643]
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی لحیانی رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی کی دیت میں سے میراث دلائی جس کو ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2643]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق اور دیگر محققین نے کہا ہے جبکہ حمل بن مالک بن نابغہ ؓ کا تفصیلی واقعہ پیچھے حضرت عبداللہ بن عباس کی حدیث(2641)
میں گزر چکا ہے جسے محققین نے صحیح قراردیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
شیخ البانی اس کی بابت یوں لکھتے ہیں’’صحیح بماقبلہ‘‘ بنا بریں دیت بھی مقتول عورت کا ترکہ ہے، اس لیے اس میں بھی خاوند کو حصہ ملتا ہے جب کہ دیت دینا قاتل عورت کے عصبہ کے ذمے ہے، اور خاوند عصبہ میں شامل نہیں بلکہ اصحاب الفروض میں سے ہے جس کا حصہ مقرر ہے۔
فائدہ: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق اور دیگر محققین نے کہا ہے جبکہ حمل بن مالک بن نابغہ ؓ کا تفصیلی واقعہ پیچھے حضرت عبداللہ بن عباس کی حدیث(2641)
میں گزر چکا ہے جسے محققین نے صحیح قراردیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
شیخ البانی اس کی بابت یوں لکھتے ہیں’’صحیح بماقبلہ‘‘ بنا بریں دیت بھی مقتول عورت کا ترکہ ہے، اس لیے اس میں بھی خاوند کو حصہ ملتا ہے جب کہ دیت دینا قاتل عورت کے عصبہ کے ذمے ہے، اور خاوند عصبہ میں شامل نہیں بلکہ اصحاب الفروض میں سے ہے جس کا حصہ مقرر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2643 سے ماخوذ ہے۔