سنن ابن ماجه
كتاب الديات— کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمِيرَاثِ مِنَ الدِّيَةِ باب: دیت کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2642
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ : " الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى كَتَبَ إِلَيْهِ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ` عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ دیت ( خون بہا ) قاتل کے خاندان والوں کے ذمہ ہے ، اور عورت کو اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا ، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے ترکہ دلایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: پہلے عمر رضی اللہ عنہ کی رائے حدیث کے خلاف تھی، جب حدیث پہنچی تو اسی وقت اپنی رائے سے رجوع کر لیا، یہی حال تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین اور تمام علمائے صالحین کا تھا، لیکن اس زمانہ میں بعض نام کے مسلمان ایسے نکلے ہیں کہ اگر ایک حدیث نہیں دس صحیح حدیثیں بھی ان کو پہنچاؤ تب بھی قیاس اور رائے کی تقلید نہیں چھوڑتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دیت کی میراث کا بیان۔`
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ دیت (خون بہا) قاتل کے خاندان والوں کے ذمہ ہے، اور عورت کو اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے ترکہ دلایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2642]
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ دیت (خون بہا) قاتل کے خاندان والوں کے ذمہ ہے، اور عورت کو اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے ترکہ دلایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2642]
اردو حاشہ:
فوائد مسائل: (1)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ رائے غالباً اس بنا پر بھی کہ دیت قاتل کے عصبہ ادا کرتے ہیں، لہٰذا و ہ مقتول کے عصبہ رشتے داروں کو ملنی چاہیے اور بیوی عصبہ میں شامل نہیں۔
(2)
صحیح مسئلہ یہ ہے کہ دیت کی رقم بھی دوسرے ترکے کے حکم میں ہے، لہٰذا جن جن وارثوں کو عام ترکہ ملتا ہے، انہیں اسی حساب سے دیت کی رقم بھی بطور ترکہ ملے گی۔
(3)
صحابۂ کرام ؓ سے بھی اجتہاد غلطی ممکن ہے، اس لیے بعد کے علماء وائمہ سے بالاولیٰ غلطی صادر ہوسکتی ہے۔
(4)
صحابۂ کرام ؓ حدیث معلوم ہو جانے پر اجتہادی رائے سے رجوع کر لیا کرتےتھے۔
علماء کو یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔
فوائد مسائل: (1)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ رائے غالباً اس بنا پر بھی کہ دیت قاتل کے عصبہ ادا کرتے ہیں، لہٰذا و ہ مقتول کے عصبہ رشتے داروں کو ملنی چاہیے اور بیوی عصبہ میں شامل نہیں۔
(2)
صحیح مسئلہ یہ ہے کہ دیت کی رقم بھی دوسرے ترکے کے حکم میں ہے، لہٰذا جن جن وارثوں کو عام ترکہ ملتا ہے، انہیں اسی حساب سے دیت کی رقم بھی بطور ترکہ ملے گی۔
(3)
صحابۂ کرام ؓ سے بھی اجتہاد غلطی ممکن ہے، اس لیے بعد کے علماء وائمہ سے بالاولیٰ غلطی صادر ہوسکتی ہے۔
(4)
صحابۂ کرام ؓ حدیث معلوم ہو جانے پر اجتہادی رائے سے رجوع کر لیا کرتےتھے۔
علماء کو یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2642 سے ماخوذ ہے۔