سنن ابن ماجه
كتاب الديات— کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا لاَ قَوَدَ فِيهِ باب: جن چیزوں میں قصاص نہیں بلکہ دیت ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ ، حَدَّثَنِي نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرَبَ رَجُلًا عَلَى سَاعِدِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا مِنْ غَيْرِ مَفْصِلٍ ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِالدِّيَةِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْقِصَاصَ ، قَالَ : " خُذْ الدِّيَةَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا " وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے دوسرے کی کلائی پر تلوار ماری جس سے وہ کٹ گئی ، لیکن جوڑ پر سے نہیں ، پھر زخمی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دیت ( خون بہا ) دینے کا حکم فرمایا ، وہ بولا : اللہ کے رسول ! میں قصاص لینا چاہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیت لے لو ، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت دے ، اور اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا ” ۔