حدیث نمبر: 2631
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قتل ( غلطی سے قتل ) کی دیت بیس اونٹنیاں تین تین سال کی جو چوتھے میں لگی ہوں ، بیس اونٹنیاں چار چار سال کی جو پانچویں میں لگ گئی ہوں ، بیس اونٹنیاں ایک ایک سال کی جو دوسرے سال میں لگ گئی ہوں ، بیس اونٹنیاں دو دو سال کی جو تیسرے سال میں لگ گئی ہوں ، اور بیس اونٹ ہیں جو ایک ایک سال کے ہوں اور دوسرے سال میں لگ گئے ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الديات / حدیث: 2631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (4545) ترمذي (1386) نسائي (4806), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الدیات 18 ( 4545 ) ، سنن الترمذی/الدیات 1 ( 1386 ) ، سنن النسائی/القسامة 28 ( 4806 ) ، ( تحفة الأشراف : 9198 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/384 ، 450 ) ، سنن الدارمی/الدیات 13 ( 2412 ) ( ضعیف ) » ( سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہیں ، اور زید بن جبیر متکلم فیہ راوی ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1386 | سنن ابي داود: 4545 | سنن نسائي: 4806 | بلوغ المرام: 1010

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1386 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی تعداد کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: قتل خطا ۱؎ کی دیت ۲؎ بیس بنت مخاض ۳؎، بیس ابن مخاض، بیس بنت لبون ۴؎، بیس جذعہ ۵؎ اور بیس حقہ ۶؎ ہے۔‏‏‏‏ ہم کو ابوہشام رفاعی نے ابن ابی زائدہ اور ابوخالد احمر سے اور انہوں نے حجاج بن ارطاۃ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1386]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
قتل کی تین قسمیں ہیں: 1-قتل عمد: یعنی جان بوجھ کر ایسے ہتھیار کا استعمال کرنا جن سے عام طورسے قتل واقع ہوتا ہے، اس میں قاتل سے قصاص لیا جاتا ہے، 2۔
قتل خطا: یعنی غلطی سے قتل کا ہوجانا، اوپر کی حدیث میں اسی قتل کی دیت بیان ہوئی ہے۔

قتل شبہ عمد: یہ وہ قتل ہے جس میں ایسی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے جن سے عام طورسے قتل واقع نہیں ہوتا جیسے لاٹھی اور کوڑا وغیرہ، اس میں دیتِ مغلظہ لی جاتی ہے اور یہ سو اونٹ ہے ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔

2؎:
کسی نفس کے قتل یا جسم کے کسی عضو کے ضائع کرنے کے بدلے میں جو مال دیا جاتا ہے اسے دیت کہتے ہیں۔

3؎:
وہ اونٹنی جو ایک سال کی ہو چکی ہو
4؎:
وہ اونٹنی جو دوسال کی ہو چکی ہو۔

5؎:
وہ اونٹ جو چار سال کا ہوچکا ہو
6؎:
وہ اونٹ جو تین سال کا ہو چکا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1386 سے ماخوذ ہے۔