حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ الْجُوزَجَانِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِغَيْرِ حَقٍّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی مومن کا ناحق قتل ساری دنیا کے زوال اور تباہی سے کہیں بڑھ کر ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الديات / حدیث: 2619
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1767 ، ومصباح الزجاجة : 928 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی مومن کا ناحق قتل ساری دنیا کے زوال اور تباہی سے کہیں بڑھ کر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2619]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی نظر میں مومن کا مقام بہت بلند ہے۔

(2)
عام طور پر قتل کا سبب کوئی دنیوی مفاد ہوتا ہے، اس چھوٹے سے مفاد کے لیے قتل کردینا بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ اللہ کی نظر میں مومن کی جان پوری دنیا کے خزانوں سے قیمتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2619 سے ماخوذ ہے۔