حدیث نمبر: 2618
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ وہ نہ تو شرک کرتا ہو اور نہ ہی اس نے خون ناحق کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الديات / حدیث: 2618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسماعيل بن أبي خالد مدلس و عنعن, ولأول الحديث شاھد عند البخاري (129) وھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9937 ، ومصباح الزجاجة : 927 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/148 ، 152 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سلسله احاديث صحيحه: 17

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ وہ نہ تو شرک کرتا ہو اور نہ ہی اس نے خون ناحق کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2618]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شرک کا مرتکب دائمی جہنمی ہے۔

(2)
قتل کے جرم کا ارتکاب جہنم میں داخلے کا باعث ہے۔

(3)
جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام کاموں سےاجتناب کیا جائے جو جہنم کی سزا کاباعث بنتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2618 سے ماخوذ ہے۔