سنن ابن ماجه
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ باب: کسی اور کو باپ بتانے اور کسی اور کو مولیٰ بنانے کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے ، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا ، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کسی اور کو باپ بتانے اور کسی اور کو مولیٰ بنانے کی برائی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2611]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2611]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اصل باپ کےسوا کسی اور آدمی کو اپنا باپ قرار دینا حرام ہے۔
(2)
جنت کی خوشبو نہ پانے کا مطلب یہ ہےکہ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو گا بلکہ جنت کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا۔
(3)
اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جہنم جائے گا سوائے اس کےکہ اللہ تعالیٰ اس کی کسی بڑی نیکی کی وجہ سے یا اپنی خاص رحمت سے اسے معاف کر دے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اصل باپ کےسوا کسی اور آدمی کو اپنا باپ قرار دینا حرام ہے۔
(2)
جنت کی خوشبو نہ پانے کا مطلب یہ ہےکہ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو گا بلکہ جنت کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا۔
(3)
اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جہنم جائے گا سوائے اس کےکہ اللہ تعالیٰ اس کی کسی بڑی نیکی کی وجہ سے یا اپنی خاص رحمت سے اسے معاف کر دے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2611 سے ماخوذ ہے۔