حدیث نمبر: 2611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے ، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا ، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضيعف, سفيان الثوري عنعن, ورواه شعبة عن الحكم بن عتيبة عن مجاهد به نحوه بلفظ: و إن ريحھا ليوجد من قدر سبعين عاما۔(أحمد 171/2،194) وسنده معلول،الحكم بن عتيبة مدلس و عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 472
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8922 ، ومصباح الزجاجة : 924 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/171 ، 94 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عبدالکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں ، اور «سبعین عاماً» کے لفظ سے یہ صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : تراجع الألبانی : 360 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کسی اور کو باپ بتانے اور کسی اور کو مولیٰ بنانے کی برائی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2611]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اصل باپ کےسوا کسی اور آدمی کو اپنا باپ قرار دینا حرام ہے۔

(2)
جنت کی خوشبو نہ پانے کا مطلب یہ ہےکہ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو گا بلکہ جنت کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا۔

(3)
اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جہنم جائے گا سوائے اس کےکہ اللہ تعالیٰ اس کی کسی بڑی نیکی کی وجہ سے یا اپنی خاص رحمت سے اسے معاف کر دے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2611 سے ماخوذ ہے۔