حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي الْحُسَيْنِ الْجُعْفِيِّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَأُصَفِّيَ مَالَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی ، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت میں مالی تعزیر درست ہے، اوپر سرقہ کے باب میں گزر چکا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس سے دوگنی قیمت لی جائے گی ، اور بعضوں نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا تھا تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا، اس لئے کہ حد زنا میں مال ضبط نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11082 ، ومصباح الزجاجة : 922 ) ( حسن صحیح ) » ( سند میں خالد بن أبی کریمہ صدوق ہیں ، لیکن حدیث کی روایت میں خطا اور ارسال کرتے ہیں ، لیکن حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے شاہد کی وجہ سے صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جو کوئی باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرے اس کے حکم کا بیان۔`
قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2608]
اردو حاشہ:
فائدہ: قتل کرنا حد ہے مال ضبط کرنا تعزیر یعنی اللہ کےرسول ﷺنے اس پرحد اورتعزیر دونوں کونافذ فرمایا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2608 سے ماخوذ ہے۔