سنن ابن ماجه
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
بَابُ : الرَّجُلِ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً باب: شوہر بیوی کے ساتھ اجنبی مرد کو پائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، قَالَ : قِيلَ لِأَبِي ثَابِتٍ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْحُدُودِ ، وَكَانَ رَجُلًا غَيُورًا : أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّكَ وَجَدْتَ مَعَ أُمِّ ثَابِتٍ رَجُلًا أَيَّ شَيْءٍ كُنْتَ تَصْنَعُ ، قَالَ : كُنْتُ ضَارِبَهُمَا بِالسَّيْفِ ، أَنْتَظِرُ حَتَّى أَجِيءَ بِأَرْبَعَةٍ ؟ إِلَى مَا ذَاكَ قَدْ قَضَى حَاجَتَهُ وَذَهَبَ ، أَوْ أَقُولُ : رَأَيْتُ كَذَا وَكَذَا ، فَتَضْرِبُونِي الْحَدَّ وَلَا تَقْبَلُوا لِي شَهَادَةً أَبَدًا ، قَالَ : فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " كَفَى بِالسَّيْفِ شَاهِدًا " ثُمَّ قَالَ : " لَا ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَتَابَعَ فِي ذَلِكَ السَّكْرَانُ وَالْغَيْرَانُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَاجَهْ ، سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ ، يَقُولُ : هَذَا حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيِّ وَفَاتَنِي مِنْهُ .
´سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب حدود کی آیت نازل ہوئی تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے جو ایک غیرت مند شخص تھے ، پوچھا گیا : اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو اس وقت آپ کیا کریں گے ؟ جواب دیا : میں تلوار سے ان دونوں کی گردن اڑا دوں گا ، کیا میں چار گواہ ملنے کا انتظار کروں گا ؟ اس وقت تک تو وہ اپنی ضرورت پوری کر کے چلا جائے گا ، اور پھر میں لوگوں سے کہتا پھروں کہ فلاں شخص کو میں نے ایسا اور ایسا کرتے دیکھا ہے ، اور وہ مجھے حد قذف لگا دیں ، اور میری گواہی قبول نہ کریں ، پھر سعد رضی اللہ عنہ کی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” ( غلط حالت میں ) تلوار سے دونوں کو قتل کر دینا ہی سب سے بڑی گواہی ہے “ ، پھر فرمایا : ” نہیں “ میں اس کی اجازت نہیں دیتا ، مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح غیرت مندوں کے ساتھ متوالے بھی ایسا کرنے لگیں گے ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا ہے کہ یہ علی بن محمد طنافسی کی حدیث ہے ، اور مجھے اس میں کا کچھ حصہ یاد نہیں رہا ۔