مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2603
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ حَدًّا ، فَعُجِّلَتْ لَهُ عُقُوبَتُهُ ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ ، وَإِلَّا فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے اگر کوئی ایسا کام کرے جس سے حد لازم آئے ، اور اسے اس کی سزا مل جائے ، تو یہی اس کا کفارہ ہے ، ورنہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2603
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حد کا نفاذ گناہ کا کفارہ ہے۔`
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے اگر کوئی ایسا کام کرے جس سے حد لازم آئے، اور اسے اس کی سزا مل جائے، تو یہی اس کا کفارہ ہے، ورنہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2603]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جرم پر دنیا میں اسلامی مل جانے سے وہ گناہ معاف ہو جاتا ہے۔

(2)
ممکن ہے ایک آدمی مجرم ہو لیکن کسی کو اس کےجرم کا علم نہ ہو سکے یا عدالت میں اس پر جرم ثابت نہ ہو سکے تو اس شخص کے گناہ کی معافی یقنی نہیں۔

(3)
معاملہ اللہ کے سپر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ممکن ہے توبہ کی وجہ سے یا کسی بڑی نیکی کی وجہ سےاس کا یہ گناہ معاف ہوجائے اور اس طرح وہ آخرت کی سزا سے بچ جائے۔
اوریہ بھی ممکن ہےکہ اسے قبر میں یا میدان حشرمیں یا جہنم کی سزا برداشت کرنی پڑے اور اس کے بعد اسے معافی ملے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2603 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔