سنن ابن ماجه
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّعْزِيرِ باب: تعزیرات (تادیبی سزاؤں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2602
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُعَزِّرُوا فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تعزیراً دس کوڑوں سے زیادہ کی سزا نہ دو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´تعزیرات (تادیبی سزاؤں) کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تعزیراً دس کوڑوں سے زیادہ کی سزا نہ دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2602]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تعزیراً دس کوڑوں سے زیادہ کی سزا نہ دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2602]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دے کر کہا ہے کہ سابقہ روایت اس سے کفایت کرتی ہے یعنی یہ روایت معنی صیحح ہے نیزشیخ البانی نے مذکورہ روایت کو ماقبل روایت کی وجہ سے حسن قرار دیا ہے۔
(2)
سزا کی دو قسمیں ہیں: (ا)
حد وہ سزاہے جس کی حد شریعت نےمقرر کر دی ہے مثلاً: قتل کی سزاقصاص یا قذف کی سزا اسی کوڑے۔
اس میں کمی بیشی جائز نہیں۔
(ب)
تعزیر وہ سزا ہے جس کی مقدار مقرر نہیں کی گئی بلکہ قاضی یا حاکم موقع مناسبت سے یا جرم کی شدت کے لحاظ سے مناسب مقدار کی سزا دے سکتاہے خواہ کوڑوں کی صورت میں ہو یا قید یا جرمانے کی صورت میں۔
(3)
اگر تعزیر کوڑے کی صورت میں ہوتو اس کے لیے یہ حد مقرر ہے تاہم جرم شدید ہونے کی صورت میں دوسری تعزیری سزا قید یا جرمانے وغیرہ کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دے کر کہا ہے کہ سابقہ روایت اس سے کفایت کرتی ہے یعنی یہ روایت معنی صیحح ہے نیزشیخ البانی نے مذکورہ روایت کو ماقبل روایت کی وجہ سے حسن قرار دیا ہے۔
(2)
سزا کی دو قسمیں ہیں: (ا)
حد وہ سزاہے جس کی حد شریعت نےمقرر کر دی ہے مثلاً: قتل کی سزاقصاص یا قذف کی سزا اسی کوڑے۔
اس میں کمی بیشی جائز نہیں۔
(ب)
تعزیر وہ سزا ہے جس کی مقدار مقرر نہیں کی گئی بلکہ قاضی یا حاکم موقع مناسبت سے یا جرم کی شدت کے لحاظ سے مناسب مقدار کی سزا دے سکتاہے خواہ کوڑوں کی صورت میں ہو یا قید یا جرمانے کی صورت میں۔
(3)
اگر تعزیر کوڑے کی صورت میں ہوتو اس کے لیے یہ حد مقرر ہے تاہم جرم شدید ہونے کی صورت میں دوسری تعزیری سزا قید یا جرمانے وغیرہ کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2602 سے ماخوذ ہے۔