مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2599
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ جَمِيعًا ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مساجد میں حدود نہ جاری کی جائیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ وہ ذکر، تلاوت اور نماز وغیرہ کی جگہ ہے، اس میں مار پیٹ سزا وغیرہ مناسب نہیں، کیونکہ چیخ و پکار سے مسجد کے احترام میں فرق آئے گا، نیز اس کے خون وغیرہ سے نجاست کا بھی خطرہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2599
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1401), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 472
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1401 | بلوغ المرام: 201 | بلوغ المرام: 1067

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1401 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´آدمی اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو کیا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں حدود نہیں قائم کی جائیں گی اور بیٹے کے بدلے باپ کو (قصاص میں) قتل نہیں کیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1401]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: لیکن شواہد کی بنا پر حدیث حسن ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1401 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 201 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مساجد کا بیان`
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی ان میں قصاص (خون کا بدلہ) لیا جائے۔ اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 201]
201لغوی تشریح:
«لا تقام» «إقامة» سے ماخوذ ہے، یعنی (حدیں) نافذ نہ کی جائیں۔
«الحدود» وہ سزائیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے کہ فلاں جرم کی سزا فلاں ہے۔
«ولا يستقاد» صیغہ مجہول۔ قصاص نہ لیا جائے۔
«بسند ضعيف» ضعیف سند، یعنی یہ حدیث ضعیف ہے لیکن خود مصنف، یعنی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے التلخیص میں اس کی سند کے بارے میں «لا بأس بإسناد» اس کی سند میں کوئی حرج نہیں کہا ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ مذکورہ روایت کو فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے، بنابریں اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجدوں میں حدیں قائم نہ کی جائیں اور قصاص بھی نہ لیا جائے کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ سزا پانے والے کا خون یا گندگی پیٹ سے خارج ہو جائے یا مسجد میں شور و غوغا ہو۔
➋ مسجد میں فیصلے کے لیے عدالت قائم کی جا سکتی ہے۔

راوی حدیث:
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، حزام کی حا کے نیچے کسرہ ہے۔ ان کی کنیت ابوخالد ہے۔ قریش کے قبیلہ بنو اسد سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بھانجے ہیں۔ اشراف قریش میں شمار ہوتے تھے۔ واقعہ فیل سے 13 سال پہلے خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا۔ 54 ہجری میں یا اس کے بعد مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر 120 برس تھی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 201 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1067 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´شراب پینے والے کی حد اور نشہ آور چیزوں کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ مسجدوں میں حدود نہ لگائی جائیں۔ (ترمذی و مستدرک حاکم) «بلوغ المرام/حدیث: 1067»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، الديات، باب ما جاء في الرجل يقتل ابنه يقاد منه أم لا، حديث:1401، والحاكم:4 /369.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
تفصیلی بحث سے انھی کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل:۷ /۲۷۲‘ ۲۷۴‘ ۳۶۳‘ والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۲۴ /۳۴۴‘ ۴۴۶) 2. اس حدیث کی رو سے مساجد میں حدود قائم نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ مساجد صرف اللہ کی عبادت و بندگی کے لیے ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول کی جگہیں ہیں۔
ایسی پاکیزہ اور رحمت کی جگہوں پر اگر حدود کا اجراء کیا جائے تو اندیشہ ہے کہ خون بہہ نکلنے یا پیشاب پاخانہ نکل جانے کی وجہ سے ان کی بے حرمتی ہو۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1067 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔