سنن ابن ماجه
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
بَابُ : لاَ يُقْطَعُ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ باب: پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 2594
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھل اور کھجور کا گابھا چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھل اور کھجور کا گابھا چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2594]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھل اور کھجور کا گابھا چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2594]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پھل سے مراد درخت پر لگا ہوا پھل ہے۔
اگر کوئی شخص درخت پر سے پھل اتار کرکھا لے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ہاں معمولی مار پیٹ ہو سکتی ہے یا معاف کیا جا سکتا ہے۔ (2)
گودے سے مراد نرم حصہ ہے جوکجھور کے درخت کے اندر پایا جاتا ہے۔
اہل عرب اسے کھاتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
پھل سے مراد درخت پر لگا ہوا پھل ہے۔
اگر کوئی شخص درخت پر سے پھل اتار کرکھا لے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ہاں معمولی مار پیٹ ہو سکتی ہے یا معاف کیا جا سکتا ہے۔ (2)
گودے سے مراد نرم حصہ ہے جوکجھور کے درخت کے اندر پایا جاتا ہے۔
اہل عرب اسے کھاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2594 سے ماخوذ ہے۔