حدیث نمبر: 259
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ ، أَوْ لِتَصْرِفُوا وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْكُمْ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کرنے یا لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے نہ سیکھو ، جس نے ایسا کیا اس کا ٹھکانا جہنم میں ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 259
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف ‘‘ بشير بن ميمون: متروك متھم (تقريب: 725) وأشعث بن سوار: ضعيف, وللحديث شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3382 ، ومصباح الزجاجة : 106 ) ( حسن ) » ( سند میں ''بشیر بن میمون'' متروک ومتہم اور ''اشعث بن سوار'' دونوں ضعیف ہیں ، اس لئے یہ سند سخت ضعیف ہے ، لیکن شواہد ومتابعات کی بناء پر حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : تخريج اقتضاء العلم ، للخطیب البغدادی : 100- 102 ، وصحيح الترغيب : 106-110 )