سنن ابن ماجه
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ باب: اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا جانے والا شہید ہے۔
حدیث نمبر: 2582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ ظُلْمًا فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس سے اس کا مال ناجائز طریقے سے لینے کا ارادہ کیا جائے ، اور وہ اس کے بچانے میں قتل کر دیا جائے ، تو وہ شہید ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2582
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 140
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا جانے والا شہید ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس سے اس کا مال ناجائز طریقے سے لینے کا ارادہ کیا جائے، اور وہ اس کے بچانے میں قتل کر دیا جائے، تو وہ شہید ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2582]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس سے اس کا مال ناجائز طریقے سے لینے کا ارادہ کیا جائے، اور وہ اس کے بچانے میں قتل کر دیا جائے، تو وہ شہید ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2582]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہرشخص کو حق حاصل ہےکہ اس کی جان اس کامال اس کی عزت محفوظ رہے لہٰذا حملہ آور کےخلاف دفاع کرنا اس کا حق ہے۔
(2)
مال کی حفاظت کے لیے حملہ آور کےخلاف لڑنا جائز ہے توعزت اورجان کی حفاظت کےلڑنا بالاولیٰ جائزہوگا۔
(3)
دفاع کرنےوالا شہید ہوجائے تو وہ شہید ہے تاہم اس کا درجہ ایمان کی حفاظت یا اسلامی سلطنت کی حفاظت کے لیے جہاد کرتے ہوئے شہید سے کم ہے۔
ایسے شخص کو باقاعدہ غسل اور کفن دے کردفن کیا جائے جب کہ معرکہ جہاد کےشہید کےلیےغسل اور کفن ضرورت نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
ہرشخص کو حق حاصل ہےکہ اس کی جان اس کامال اس کی عزت محفوظ رہے لہٰذا حملہ آور کےخلاف دفاع کرنا اس کا حق ہے۔
(2)
مال کی حفاظت کے لیے حملہ آور کےخلاف لڑنا جائز ہے توعزت اورجان کی حفاظت کےلڑنا بالاولیٰ جائزہوگا۔
(3)
دفاع کرنےوالا شہید ہوجائے تو وہ شہید ہے تاہم اس کا درجہ ایمان کی حفاظت یا اسلامی سلطنت کی حفاظت کے لیے جہاد کرتے ہوئے شہید سے کم ہے۔
ایسے شخص کو باقاعدہ غسل اور کفن دے کردفن کیا جائے جب کہ معرکہ جہاد کےشہید کےلیےغسل اور کفن ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2582 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 140 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ بتائیے! اگر کوئی آدمی آکر میرا مال چھیننا چاہے (تو میں کیا کروں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے اپنا مال نہ دے۔‘‘ اس نے پوچھا: بتائیے! اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے؟ فرمایا: ’’تو اس سے لڑائی کر!‘‘ اس نے پوچھا: فرمائیے! اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’تو شہید ہے۔‘‘ اس نے پوچھا: اگر میں اسے قتل کر دوں؟ فرمایا: ’’وہ دوزخی ہو گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:360]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
(1)
اپنے مال ودولت کا تحفظ اور بچاؤ ایک اجر وثواب اور فضیلت کا کام ہے، کیونکہ اگر ہر انسان ظلم کو گوارا کرنا شروع کر دے، ظالم کا مقابلہ نہ کرے تو ظالم دلیر ہوں گے، اور ان کی مال ودولت کی ہوس، ان کو مزید ظلم وستم پر آمادہ کرے گی۔
لیکن اگر ظالموں کا مقابلہ ہوگا، ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، تو ظلم وستم کا راستہ بند ہوگا۔
اس لیے شریعت اس کام کو اجر وثواب کا باعث قرار دیتی ہے، تاکہ لوگوں کے اندر ظالموں کی راہ روکنے کی ہمت وجرأت پیدا ہو۔
بد قسمتی سے آج ہم نے اس حدیث پر عمل کرنا چھوڑ دیا؟ اس لیے دن بدن قتل وغارت اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
(2)
دوسروں پر ظلم وستم ڈھانا، کسی کا مال چھیننا، اس قدر گھناؤنا فعل ہے کہ ایسے شخص کا خون محترم نہیں رہتا، اس کا ضرورت کی صورت میں خون بہانا جائز ہوگا، اور اس فعل کا خاصہ جہنم کی سزا ہے، اگر توبہ نہ کی یا معافی نہ ملی۔
اور اس کے ہاتھوں مظلوم مرنے والا آخرت کے اجر وثواب کی رو سے شہید ہوگا۔
(1)
اپنے مال ودولت کا تحفظ اور بچاؤ ایک اجر وثواب اور فضیلت کا کام ہے، کیونکہ اگر ہر انسان ظلم کو گوارا کرنا شروع کر دے، ظالم کا مقابلہ نہ کرے تو ظالم دلیر ہوں گے، اور ان کی مال ودولت کی ہوس، ان کو مزید ظلم وستم پر آمادہ کرے گی۔
لیکن اگر ظالموں کا مقابلہ ہوگا، ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، تو ظلم وستم کا راستہ بند ہوگا۔
اس لیے شریعت اس کام کو اجر وثواب کا باعث قرار دیتی ہے، تاکہ لوگوں کے اندر ظالموں کی راہ روکنے کی ہمت وجرأت پیدا ہو۔
بد قسمتی سے آج ہم نے اس حدیث پر عمل کرنا چھوڑ دیا؟ اس لیے دن بدن قتل وغارت اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
(2)
دوسروں پر ظلم وستم ڈھانا، کسی کا مال چھیننا، اس قدر گھناؤنا فعل ہے کہ ایسے شخص کا خون محترم نہیں رہتا، اس کا ضرورت کی صورت میں خون بہانا جائز ہوگا، اور اس فعل کا خاصہ جہنم کی سزا ہے، اگر توبہ نہ کی یا معافی نہ ملی۔
اور اس کے ہاتھوں مظلوم مرنے والا آخرت کے اجر وثواب کی رو سے شہید ہوگا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 140 سے ماخوذ ہے۔