سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ باب: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 256M
قال أبو الحسن: حدثنا حازم بن يحيى حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ومحمد بن نمير قالا: حدثنا ابن نمير عن معاوية النصري -وكان ثقة- ثم ذكر الحديث نحوه بإسناده.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` معاویہ نصری نے جو ثقہ ہیں مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2383 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ریا و نمود اور شہرت کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " «جب الحزن» (غم کی وادی) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو "، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: " جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے "، پھر صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: " ریاکار قراء (اس میں داخل ہوں گے)۔" [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2383]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " «جب الحزن» (غم کی وادی) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو "، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: " جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے "، پھر صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: " ریاکار قراء (اس میں داخل ہوں گے)۔" [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2383]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’ابومعان‘‘ یا ’’ابومعاذ‘‘ مجہول راوی ہے، اور ’’عمار بن سیف‘‘ ضعیف الحدیث، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کا دوسرا طریق بھی ضعیف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: 5023، و 5152)
نوٹ:
(سند میں ’’ابومعان‘‘ یا ’’ابومعاذ‘‘ مجہول راوی ہے، اور ’’عمار بن سیف‘‘ ضعیف الحدیث، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کا دوسرا طریق بھی ضعیف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: 5023، و 5152)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2383 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 275 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´ریا کار علماء اور قاری`
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ؟ قَالَ: «وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّم كل يَوْم أَرْبَعمِائَة مرّة» . قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَدْخُلُهَا قَالَ: «الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَكَذَا ابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ فِيهِ: «وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الَّذِينَ يَزُورُونَ الْأُمَرَاءَ» . قَالَ الْمُحَارِبِيُّ: يَعْنِي الجورة . . .»
". . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غم کے کنوئیں سے تم اللہ کی پناہ مانگو۔ " لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! غم کا کنواں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دوزخ میں ایک وادی نالہ ہے جس سے جہنم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔" لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں کون داخل ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قرآن پڑھنے والے جو اپنے عملوں کو لوگوں کو سیکھانے کے لیے کرتے ہیں۔" اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ برے وہ قاری لوگ ہیں جو ظالم امیروں سے ملتے ہیں۔ یعنی ریا نمود کے پڑھنے والے ایسے وحشت ناک کنوئیں میں سزا پائیں گے جس کا بیان حدیث میں ہے اسی لیے ہر کام میں اخلاص ضروری ہے۔ . . ." [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 275]
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ؟ قَالَ: «وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّم كل يَوْم أَرْبَعمِائَة مرّة» . قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَدْخُلُهَا قَالَ: «الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَكَذَا ابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ فِيهِ: «وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الَّذِينَ يَزُورُونَ الْأُمَرَاءَ» . قَالَ الْمُحَارِبِيُّ: يَعْنِي الجورة . . .»
". . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غم کے کنوئیں سے تم اللہ کی پناہ مانگو۔ " لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! غم کا کنواں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دوزخ میں ایک وادی نالہ ہے جس سے جہنم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔" لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں کون داخل ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قرآن پڑھنے والے جو اپنے عملوں کو لوگوں کو سیکھانے کے لیے کرتے ہیں۔" اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ برے وہ قاری لوگ ہیں جو ظالم امیروں سے ملتے ہیں۔ یعنی ریا نمود کے پڑھنے والے ایسے وحشت ناک کنوئیں میں سزا پائیں گے جس کا بیان حدیث میں ہے اسی لیے ہر کام میں اخلاص ضروری ہے۔ . . ." [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 275]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
اس سند میں دو وجہ ضعف ہیں: ➊ عمار بن سیف الضبی الکوفی ضعیف راوی تھا۔
حافظ ابن حجر نے فرمایا: «ضعيف الحديث عابد»
"وہ حدیث میں ضعیف (اور) عبادت گزار تھا۔" [تقريب التهذيب: 4826]
➋ عمار بن سیف کا استاد ابومعان یا ابومعاذ البصری مجہول تھا۔
اس کی سند ضعیف ہے۔
اس سند میں دو وجہ ضعف ہیں: ➊ عمار بن سیف الضبی الکوفی ضعیف راوی تھا۔
حافظ ابن حجر نے فرمایا: «ضعيف الحديث عابد»
"وہ حدیث میں ضعیف (اور) عبادت گزار تھا۔" [تقريب التهذيب: 4826]
➋ عمار بن سیف کا استاد ابومعان یا ابومعاذ البصری مجہول تھا۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 275 سے ماخوذ ہے۔