سنن ابن ماجه
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَمَنْ أَتَى بَهِيمَةً باب: محرم یا جانور سے جماع کرنے والے کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی محرم سے جماع کرے اسے قتل کر دو ، اور جو کسی جانور سے جماع کرے تو اسے بھی قتل کر دو ، اور اس جانور کو بھی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´محرم یا جانور سے جماع کرنے والے کی حد کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی محرم سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور جو کسی جانور سے جماع کرے تو اسے بھی قتل کر دو، اور اس جانور کو بھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2564]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی محرم سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور جو کسی جانور سے جماع کرے تو اسے بھی قتل کر دو، اور اس جانور کو بھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2564]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سوتیلی ماں سےنکاح کرنے والے کے لیے سزائے موت ثابت ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 2607)
کسی دوسری محرم عورت (مثلاً: بہن، بیٹی، بھتیجی، بھانجی وغیرہ)
سےنکاح کرنےوالے کو اس پر قیاس کیا جائے گا۔
(2)
جانور سے بدفعلی کرنے والے کی بھی سزاموت ہے۔
(3)
جانور کو قتل کرنے میں کئی حکمتیں ہیں: (ا)
دوسروں کےلیےعبرت۔
(ب)
فحش عمل کی تشہیر سےبچاؤ تاکہ اس جانور کوکوئی دیکھ کر کوئی شخص یہ نہ کہےاس جانورکے ساتھ فلاں نے بدفعلی کی تھی۔
(ج)
اس جانور کا گوشت کھانے یا اس پر سواری کرنے سے اجتناب جس کےساتھ ایسی حرکت کی گئی وغیرہ۔
(4)
اگر یہ جانور مجرم کی ملکیت نہیں تو اسے قتل کر کے اس کی قیمت اس کے ترکے میں سے مالک کو ادا کی جائے۔
واللہ أعلم
فوائد و مسائل:
(1)
سوتیلی ماں سےنکاح کرنے والے کے لیے سزائے موت ثابت ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 2607)
کسی دوسری محرم عورت (مثلاً: بہن، بیٹی، بھتیجی، بھانجی وغیرہ)
سےنکاح کرنےوالے کو اس پر قیاس کیا جائے گا۔
(2)
جانور سے بدفعلی کرنے والے کی بھی سزاموت ہے۔
(3)
جانور کو قتل کرنے میں کئی حکمتیں ہیں: (ا)
دوسروں کےلیےعبرت۔
(ب)
فحش عمل کی تشہیر سےبچاؤ تاکہ اس جانور کوکوئی دیکھ کر کوئی شخص یہ نہ کہےاس جانورکے ساتھ فلاں نے بدفعلی کی تھی۔
(ج)
اس جانور کا گوشت کھانے یا اس پر سواری کرنے سے اجتناب جس کےساتھ ایسی حرکت کی گئی وغیرہ۔
(4)
اگر یہ جانور مجرم کی ملکیت نہیں تو اسے قتل کر کے اس کی قیمت اس کے ترکے میں سے مالک کو ادا کی جائے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2564 سے ماخوذ ہے۔