حدیث نمبر: 2561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کو تم پاؤ کہ وہ قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) کر رہا ہے ، تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2561
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحدود 29 ( 4462 ) ، سنن الترمذی/الحدود 24 ( 1456 ) ، ( تحفة الأشراف : 6176 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/269 ، 300 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4462 | سنن ابي داود: 4463 | بلوغ المرام: 1044

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4463 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´اغلام بازی (قوم لوط کے فعل) کی سزا کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4463]
فوائد ومسائل:
خلاف وضح فطری عمل کرنے پر مذکورہ بالا روایات کی روشنی میں دونوں ہی طرح کےفتوے دیے جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4463 سے ماخوذ ہے۔