سنن ابن ماجه
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
بَابُ : رَجْمِ الْيَهُودِيِّ وَالْيَهُودِيَّةِ باب: یہودی مرد اور عورت کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2557
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی اور ایک یہودیہ کو رجم کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´یہودی مرد اور عورت کے رجم کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی اور ایک یہودیہ کو رجم کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2557]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی اور ایک یہودیہ کو رجم کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2557]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
زنا سابقہ شریعتوں میں بھی جرم تھا اور یہود کے ہاں بھی اس کی سزا رجم ہے۔
(2)
اسلامی حکومت میں غیر مسلموں پر بھی اسلامی سزائیں نافذ ہوتی ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
زنا سابقہ شریعتوں میں بھی جرم تھا اور یہود کے ہاں بھی اس کی سزا رجم ہے۔
(2)
اسلامی حکومت میں غیر مسلموں پر بھی اسلامی سزائیں نافذ ہوتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2557 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1437 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اہل کتاب کو رجم کرنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1437]
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1437]
اردو حاشہ:
وضاحت:
ؔ
1؎:
کیوں کہ یہ قول اس باب کی احادیث کے مطابق ہے۔
نوٹ:
(سند میں ’’شریک القاضی‘‘ حافظے کے کمزور ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)
وضاحت:
ؔ
1؎:
کیوں کہ یہ قول اس باب کی احادیث کے مطابق ہے۔
نوٹ:
(سند میں ’’شریک القاضی‘‘ حافظے کے کمزور ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1437 سے ماخوذ ہے۔