حدیث نمبر: 255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، وَيَقُولُونَ : نَأْتِي الْأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا ، وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ ، كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا " ، قَال مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ : كَأَنَّهُ يَعْنِي : الْخَطَايَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک میری امت کے کچھ لوگ دین کا علم حاصل کریں گے ، قرآن پڑھیں گے ، اور کہیں گے کہ ہم امراء و حکام کے پاس چلیں اور ان کی دنیا سے کچھ حصہ حاصل کریں ، پھر ہم اپنے دین کے ساتھ ان سے الگ ہو جائیں گے ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یہ بات ہونے والی نہیں ہے ، جس طرح کانٹے دار درخت سے کانٹا ہی چنا جا سکتا ہے ، اسی طرح ان کی قربت سے صرف... چنا جا سکتا ہے “ ۔ محمد بن صباح راوی نے کہا : گویا آپ نے ( گناہ ) مراد لیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 255
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد بن مسلم عنعن, والحديث ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5825 ، ومصباح الزجاجة : 104 ) ( ضعیف ) » ( حدیث کی سند میں مذکور راوی عبید اللہ بن أبی بردہ مقبول راوی ہیں ، لیکن متابعت نہ ہونے سے لین الحدیث ہیں ، یعنی ضعیف ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 1250 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2425 | مشكوة المصابيح: 262

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 262 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´علماء کے لیے غور و فکر کی کچھ احادیث`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ ويقرءون الْقُرْآن يَقُولُونَ نَأْتِي الْأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي - الْخَطَايَا ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه . . .»
. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ آئندہ دینی علم حاصل کریں گے اور قرآن مجید پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم امیروں کے پاس جا کر ان سے دنیا کی دولت حاصل کر لیں گے اور اپنے دین کو ان سے بچائے رکھیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکے گا جس طرح کانٹے دار درخت سے نہیں حاصل ہوتا مگر کانٹا۔ اسی طرح امیروں و مالداروں کے پاس آنے جانے سے سوائے گناہ کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت ظالم امیروں کے پاس نہیں جانا چاہئے)۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 262]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ اس کے راوی ولید بن مسلم الشامی رحمہ اللہ ثقہ صدوق مدلس تھے اور یہ روایت «عن» سے ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔
◄ عبیداللہ بن مغیرہ بن ابی بردہ مجہول الحال ہے۔ حافظ ذہبی نے فرمایا: «غير معروف» [الكاشف 2؍205 ت3641]
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 262 سے ماخوذ ہے۔