حدیث نمبر: 2542
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ : فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ` میں نے عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی کہتے سنا : تو اب میں تمہارے درمیان ہوں ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2542
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جس پر حد واجب نہیں ہے اس کا بیان۔`
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی کہتے سنا: تو اب میں تمہارے درمیان ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2542]
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل: (1)
بنو قریظہ کا مسلمانوں سے یہ معاہدہ ہوچکا تھا کہ وہ مسلمانوں کےخلاف وہ قریش مکہ کی مدد نہیں کریں گئے لیکن بنونظیرکے سردار حیی بن اخطب کےبہکانےسے بنوقریظہ کا سردارکعب بن اسد عہد شکنی پر آمادہ ہو گیا۔
اور بنوقریظہ نے جنگ خندق میں عملاً کفار کی مدد کی اور ایسی کاروائیاں کیں جس سے مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
اس قبیلہ بنو قریظہ عہد شکنی مرتکب ہوا۔

(2)
جنگ خندق سے فارغ ہوکر نبیﷺ نے بنو قریظہ کی بستی کا محاصرہ کیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رعب ڈال دیا اوروہ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گئے اورکہا حضرت سعد بن معاذ جوفیصلہ کریں گئے وہ ہمیں قبول ہوگا۔
حضرت سعد بن معاذ نےفیصلہ دیا بنوقریظہ کے سب مردوں کو قتل کر دیا جائے عورتوں اوربچوں قید کردیا جائے اور ان کا مال اسباب مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الرحیق المختوم ص: 509تا512)

(3)
زیرناف بال اگ آنا بلوغت کی علامت ہے۔

(4)
نابالغ بچوں پرحد نافذ نہیں ہوتی البتہ مناسب تعزیر لگائی جاسکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2542 سے ماخوذ ہے۔