سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ باب: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ ، وَلَا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَالنَّارُ النَّارُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کے لیے نہ سیکھو ، اور علم دین کو مجالس میں اچھے مقام کے حصول کا ذریعہ نہ بناؤ ، جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے جہنم ہے ، جہنم “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جہنم کا مستحق ہے، یا وہ علم اس کے حق میں خود آگ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کے لیے نہ سیکھو، اور علم دین کو مجالس میں اچھے مقام کے حصول کا ذریعہ نہ بناؤ، جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے جہنم ہے، جہنم “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 254]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کے لیے نہ سیکھو، اور علم دین کو مجالس میں اچھے مقام کے حصول کا ذریعہ نہ بناؤ، جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے جہنم ہے، جہنم “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 254]
اردو حاشہ:
بعض محققین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (صحیح الترغیب للالبانی، حدیث: 102)
نیز ہمارے محقق نے بھی اس کے دیگر شواہد کا تذکرہ کیا ہے لیکن ان کی صحت وضعف کی طرف اشارہ نہیں کیا، بہرحال یہ روایت شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
(2) (فالنار النار)
کا جملہ دو طرح پڑھا گیا ہے۔
اگر پیش سے (فالنارُ النارُ)
پڑھا جائے تو وہ ترجمہ ہو گا جو بیان ہوا۔
اگر زبر سے فالنارَ النارَ پڑھا جائے تو مطلب ہو گا ’’یہ آگ کا مستحق ہے۔‘‘
یا ’’اسے چاہیے کہ آگ سے ڈرے۔‘‘
بعض محققین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (صحیح الترغیب للالبانی، حدیث: 102)
نیز ہمارے محقق نے بھی اس کے دیگر شواہد کا تذکرہ کیا ہے لیکن ان کی صحت وضعف کی طرف اشارہ نہیں کیا، بہرحال یہ روایت شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
(2) (فالنار النار)
کا جملہ دو طرح پڑھا گیا ہے۔
اگر پیش سے (فالنارُ النارُ)
پڑھا جائے تو وہ ترجمہ ہو گا جو بیان ہوا۔
اگر زبر سے فالنارَ النارَ پڑھا جائے تو مطلب ہو گا ’’یہ آگ کا مستحق ہے۔‘‘
یا ’’اسے چاہیے کہ آگ سے ڈرے۔‘‘
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 254 سے ماخوذ ہے۔