حدیث نمبر: 2524
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ وَعَاصِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن جائے تو وہ آزاد ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب العتق / حدیث: 2524
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/العتق 7 ( 3949 ) ، سنن الترمذی/الأحکام 28 ( 1365 ) ، ( تحفة الأشراف : 4580 ، 4585 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/15 ، 18 ، 20 ) ( صحیح ) » ( حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے ، اور حاکم نے صحیح ، اور ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی ہے ، حالانکہ سند میں حسن بصری ہیں ، جن کا سماع سمرة رضی اللہ عنہ سے صرف حدیث عقیقہ کا ہے ، دوسری کوئی حدیث ان سے نہیں سنی ہے ، لیکن حدیث اپنے طرق و شواہد کی بناء پر صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 1746 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1365 | سنن ابي داود: 3949 | بلوغ المرام: 1224

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3949 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟`
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہو جائے گا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3949]
فوائد ومسائل:
(1) حسن بصری کا حضرت سمرہ بن جندب سے سماع ثابت ہونے میں ائمہ حدیث کا اختلاف ہے۔
تاہم یہ حدیث حسن اور بقول بعض صیح ہے۔

(2ْ) (ذا رحمٍ محرمٍ) سے یہاں مردا باپ، داد اور اولاد اور ان کی اولاد ہے۔
ان میں ملکیت ثابت ہوتے ہی یہ ازخود آزاد ہوجائیں گے، البتہ دیگر رشتہ داروں کے بارے میں اختلاف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3949 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1224 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(آزادی کے متعلق احادیث)`
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو شخص کسی قرابت دار کا مالک ہو جائے تو وہ غلام آزاد ہے۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور محدثین کی ایک جماعت نے اسے موقوف قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1224»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، العتق، باب فيمن مالك ذا رحم محرم، حديث:3949، والترمذي، الأحكام، حديث:1365، وابن ماجه، الأحكام، حديث:2524، والنسائي في الكبرٰي:3 /173، حديث:4898، 4902، وأحمد:5 /20.»
تشریح: یہ حدیث بقول محدثین موقوف ہے مگر اس باب میں اور احادیث بھی مروی ہیں جن میں سے ایک کو ابن قطان اور ابن حزم نے صحیح قرار دیا ہے۔
اس حدیث کی رو سے جن تعلق داروں کا باہم نکاح نہیں ہو سکتا ان میں غلامی اور آقائی کا تعلق بھی نہیں رہ سکتا۔
(سبل السلام)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1224 سے ماخوذ ہے۔