سنن ابن ماجه
كتاب العتق— کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمُكَاتَبِ باب: مکاتب غلام کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ ، فَقَالَتْ لَهَا : إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَكَانَ الْوَلَاءُ لِي ، قَالَ : فَأَتَتْ أَهْلَهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ الْوَلَاءَ لَهُمْ ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " افْعَلِي " ، قَالَ : فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ان کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں جو مکاتب ( لونڈی ) تھیں ، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں ، مگر تمہاری ولاء ( میراث ) میری ہو گی ، چنانچہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس آئیں ، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ ( پیش کش ) اس شرط پر منظور کر لی کہ ولاء ( میراث ) کا حق خود ان کو ملے گا ، اس کا تذکرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنا کام کر ڈالو “ ، اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں خطبہ دیا ، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا : ” آخر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں ، اور ہر وہ شرط جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو باطل ہے ، اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں ، اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حقدار اور اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ قوی ہے ، ولاء اسی کا حق ہے جو ( مکاتب کی طرف سے مال ادا کر کے ) اسے آزاد کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں جو مکاتب (لونڈی) تھیں، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں، مگر تمہاری ولاء (میراث) میری ہو گی، چنانچہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس آئیں، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ (پیش کش) اس شرط پر منظور کر لی کہ ولاء (میراث) کا حق خود ان کو ملے گا، اس کا تذکرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2521]
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت بریرہ کی مکاتبت کی رقم نو اوقیے کے بارے میں یہ طے پایا تھا کہ وہ قسطوں میں ادا کی جائےگی اور سال میں ایک اوقیہ ادا کرنا ہوگا۔ (صیحح البخاري، البیوع، باب اشترط فی البیع شروط لاتحل، حددیث: 2167)
(2)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ کو ان کی ناجائز شرائط تسلیم کرنے کا حکم دیا تاکہ کہیں وہ آزاد کرنے سے انکار نہ کردیں۔
(3)
خلاف شریعت شرط پر فریقین رضا مندی کا اظہار کردیں تب بھی وہ قانونی طور کالعدم ہی ہوتی ہے۔
(4)
کتاب اللہ سے مراد اللہ کا نازل کردہ حکم ہے خواہ وہ قرآن مجید میں مذکور یا رسول للہ ﷺنے قرآن کے علاوہ وحی کی بنیاد پر بیان فرمایا ہو۔
(5)
رسول اللہﷺاس سے پہلےیہ حکم بیان فرم اچکے تھےاس لیے اس حکم کی بنیاد ان کی طے کردہ شرط کالعدم ہونے اعلان فرما دیا۔
(6)
اہم مسئلہ خطبے اور وعظ میں بیان کرنا چاہیے تاکہ سب لوگوں کوعلم ہوجائے۔
(7)
رسول اللہ ﷺنے غلطی پرتنبیہ فرمائی اورغلطی کرنے والے کا نام نہیں لیا تاکہ سب حاضرین کو معلوم ہو جائے یہ عمل غلط ہے اور کرنے واے کی بے عزتی یا رسوائی نہ ہو۔
(8)
ولاءایک تعلق کا نام ہے جو آزاد کرنے اور آزاد ہونے والے کے درمیان قائم ہوتا ہے اس وجہ سے ہونے والا کرنے کے خاندان کا فرد شمار ہوتا ہے۔
اگر آزاد کردہ غلام فوت ہو جائے اور اس کا کوئی نسبی وارث موجود نہ ہو تو اس کا ترکہ آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔
(9)
اگر آزاد کرنے والا فوت ہوجائے تو آزاد کردہ غلام اس کا وارث نہیں ہوتا کیونکہ زیر مطالعہ حدیث میں ارشاد ہے ولاء اس کی ہے جو آزاد کرے۔
واللہ أعلم
1۔
بریرہ ؓ انصار کے کسی قبیلے کی لونڈی تھی اور حضرت عائشہ ؓ کے ہاں اس کا آنا جانا تھا بلکہ فارغ اوقات میں آپ کی خدمت کای کرتی تھی۔
جیسا کہ واقعہ افک سے معلوم ہوتا ہے۔
حضرت بریرہ ؓ کا 9 اوقیہ چاندی کی ادائیگی پر اپنے مالکوں سے آزادی کا تحریری معاہدہ ہوگیا۔
(صحیح البخاري، المکاتب، حدیث: 2563)
جن میں چار اوقیہ انھوں نے یک مشت ادا کردیے اور باقی پانچ اوقیہ سال میں ایک اوقیہ کے حساب سے پانچ سال میں ادا کرنے تھے۔
(صحیح البخاري، المکاتب، حدیث: 2560)
امام بخاری ؒ اس حدیث سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسجد میں برسر منبرخرید وفروخت کے مسائل کی تعلیم دی جاسکتی ہے، مسجد میں عقد بیع کا جواز ثابت کرنا قطعاً مقصود نہیں، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے شرح تراجم بخاری میں بیان کیا ہے لیکن اس روایت میں رسول اللہ ﷺ نے برسرمنبر جن باتوں کا ذکر کیا ہے، ان میں بیع وشراء کا قطعاً کوئی ذکر نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے برسرمنبر جو ارشادات ہیں وہ بیع وشرا اورعتق وولاء کے قضیے کے بعد بیان ہوئے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے منبر پر اسی گزشتہ معاملے کی طرف اشارہ کرکے مسئلے کی وضاحت فرمائی ہے، لہذا منبرپر اس واقعے کی طرف اشارہ کرنا گویا منبر پر اسے بیان کرنے کے مترادف ہے۔
2۔
حدیث کے آخر میں امام بخاری ؒ نے اس کے متعدد طرق کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
دراصل امام بخاری ؒ کے شیخ علی بن عبداللہ المدینی ؒ اس روایت کو اپنے چار شیوخ: حضرت سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید قطان، عبدالوہاب بن عبدالمجید اورجعفر بن عون سے بیان کرتے ہیں۔
یہ حضرات اپنے شیخ یحییٰ بن سعید انصاری سے بیان کرتے ہیں، نیز اس ضمن میں امام بخاری ؒ نے حضرت امام مالک ؒ کے طریق کا بھی حوالہ دیا ہے جو مرسل ہے اور اس میں رسول اللہ ﷺ کے منبر پر چڑھنے کا بھی ذکر نہیں ہے۔
اسی طریق کو آگے امام بخاری ؒ نے موصولاً بھی بیان کیا ہے۔
(صحيح البخاري، المکاتب، حدیث: 2564)
یحییٰ بن سعید قطان اورعبدالوہاب بن عبدالمجید کی سند بھی امام مالک ؒ طرح مرسل اور ذکر منبر کے بغیر ہے۔
جعفر بن عون کی سند اس لیے بیان کی ہے کہ اس میں یحییٰ بن سعیدانصاری کے عمرہ سے سماع کی تصریح اور عمرہ کے حضرت عائشہ ؓ سے سماع کی بھی وضاحت موجود ہے۔
چونکہ حضرت سفیان بن عیینہ کی متصل روایت میں منبر کا تذکرہ تھا، اس لیے اسے اصل قرار دے کر متن میں لےلیا اور باقی اسناد کا بطور تائید حوالہ دے دیاگیا۔
(فتح الباري: 713/1)
نوٹ: اس حدیث سے متعلق دیگر مباحث کتاب المکاتب میں بیاں ہوں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
ہاں جائز شرطیں جو فریقین طے کرلیں وہ تسلیم ہوں گی۔
اس روایت میں نو اوقیہ کا ذکر ہے۔
دوسری روایت میں پانچ کا جس کی تطبیق یوں دی گئی ہے کہ شاید نواوقیہ پر معاملہ ہو اور پانچ باقی رہ گئے ہوں جن کے لیے بریرہ ؓ کو حضرت عائشہ ؓ کے پاس آنا پڑا ممکن ہے نو کے لئے راوی کا وہم ہو اور پانچ ہی صحیح ہو۔
روایات سے پہلے خیال کو ترجیح معلوم ہوتی ہے جیسا کہ فتح الباری میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
(1)
ولا ایک حق ہے جو آزاد کرنے والے کو اپنے آزاد کردہ غلام لونڈی پر حاصل ہوتا ہے۔
اگر آزاد کردہ مر جائے تو آزاد کرنے والا بھی اس کا ایک وارث ہوتا ہے۔
عرب لوگ اس حق کو فروخت کر دیتے اور ہبہ میں دے دیتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
(2)
اس حدیث کے مطابق ولا میں ایسی غلط شرط لگانا منع ہے جس کا ثبوت کتاب اللہ میں نہ ہو، جائز شرطیں جو فریقین طے کر لیں وہ تسلیم ہوں گی، چنانچہ حضرت بریرہ ؓ کے مالکان نے اپنے لیے ولا کی شرط لگائی، رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا: تم ان سے ولا کی شرط کر لو لیکن وضاحت کر دی کہ ولا تو اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے، غلط شرط کا کوئی اعتبار نہیں۔
صحیح یہی ہے کہ پانچ اوقیہ پر معاملہ ہوا تھا۔
ممکن ہے شروع میں نو کا ذکر ہوا اور راوی نے اسی کو نقل کردیا ہو۔
یہ مضمون پیچھے مفصل ذکر ہوچکا ہے۔
حافظ صاحب فرماتے ہیں۔
ویمکن الجمع بأن التسع اصل والخمس کانت بقیت علیها و بهذا أجزم القرطبي والمحب الطبري الخ یعنی اس طرح جمع ممکن ہے کہ اصل میں معاملہ نو پر ہوا ہو اور پانچ باقی رہ گئے ہوں۔
قرطبی اور محب طبری نے اسی تطبیق پر جزم کیا ہے۔
(1)
مکاتب چونکہ غلام ہے جس کی انسانیت ناقص ہوتی ہے، اس انسانیت کو حاصل کرنے کے لیے سعی و کوشش کرنا جائز ہے، اس کے لیے وہ لوگوں سے اپیل کر سکتا ہے کہ میرے ساتھ تعاون کیا جائے تاکہ میں غلامی سے اپنی گردن آزاد کروا لوں۔
اس کی محتاجی بھوکے انسان کی ضرورت سے زیادہ ہے۔
بعض اوقات اس کی جمع شدہ پونجی بدل کتابت کے لیے ناکافی ہوتی ہے، اس لیے وہ سوال کر کے بھی مانگ سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ سوال کا استعانت پر عطف، خاص کا عام پر عطف ہے، حضرت بریرہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کے سوال کرنے کر برقرار رکھا۔
اگر ناجائز ہوتا تو آپ اس کی وضاحت کر دیتے۔
(فتح الباري: 236/5) (2)
اس حدیث میں نو اوقیے چاندی کا ذکر ہے جبکہ قبل ازیں پانچ اوقیے چاندی کا بیان تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اصل میں معاملہ نو پر ہوا تھا۔
جب پانچ اوقیے چاندی باقی رہ گئی تو بریرہ ؓ حضرت عائشہ ؓ سے تعاون لینے کے لیے حاضر خدمت ہوئیں۔
واللہ أعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا، تو انہوں نے خود کو اختیار کیا، (عروہ کہتے ہیں) اگر بریرہ کے شوہر آزاد ہوتے تو آپ بریرہ کو اختیار نہ دیتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1154]
وضاخت: 1 ؎: نسائی نے سنن میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ آخری فقرہ حدیث میں مدرج ہے، یہ عروہ کا قول ہے، اور ابو داؤد نے بھی اس کی وضاحت کر دی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1155]
وضاخت: 1 ؎: راجح روایت یہی ہے کہ بریرہ کے شوہرغلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا ’’حراً‘‘ کا لفظ وہم ہے کما تقدم۔
نوٹ:
«المحفوظ: ’’کان زوجھا عبداً‘‘ ’’حراً‘‘ کا لفظ بقول بخاری ’’وہم‘‘ ہے) حدیث میں بریرہ کے شوہر کو ’’حرا‘‘ کہاگیا ہے، یعنی وہ غلام نہیں بلکہ آزاد تھے، اس لیے یہ ایک کلمہ شاذ ہے، اور محفوظ اور ثابت روایت ’’عبداً‘‘ کی ہے یعنی بریرہ کے شوہر ’’مغیث‘‘ غلام تھے)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بریرہ کے قصہ میں روایت ہے کہ اس کا شوہر غلام تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو (آزاد ہونے کے بعد) اختیار دے دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کیا، اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے (بریرہ کو) اختیار نہ دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2233]
شیخ البانی ؒ کہتے ہیں کہ حدیث میں آخری جملہ: اگر شوہر آزاد ہوتا۔
۔
۔
۔
مدرج ہے جو کہ عروہ کا قول ہے۔
(صحیح سنن أبي داود للألباني، حدیث:2233) تاہم مسئلے کی نوعیت یہی ہے کہ اگر شوہر آزاد ہو تو پھر لونڈی کو اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد کی گئی اس وقت وہ آل ابواحمد کے غلام مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا اور اس سے کہا: ” اگر اس نے تجھ سے صحبت کر لی تو پھر تجھے اختیار حاصل نہیں رہے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2236]
یہ روایت ضعیف ہے اس سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا کہ آزاد ہونے والی لونڈی نے آزاد ہونے کے بعد اپنے خاوند سے تعلق زوجیت قائم کرلیا تو اس کا اختیار ختم ہوجائے گا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا، (کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہیں یا اس سے جدا ہو جائیں) اور ان کے شوہر آزاد تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2074]
فائدہ: علامہ البانی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ بات درست نہیں کہ اس کا خاوند آزاد تھا۔
غالباً اس لیے ہمارے فاضل محقق نے اسے ضعیف قراردیا ہے جبکہ دوسرے محققین حضرات نے اس ٹکڑے کے علاوہ باقی حصے کو صحیح کہا ہے۔
صحیح یہ ہے کہ وہ غلام تھا جیسے کہ اگلی دو حدیثوں (2075، 2076)
میں آرہا ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ باطل شرط نہیں مانی جائے گی، اور باطل شرط پر کی گئی بیع درست نہیں ہوگی۔ ولاء سے مراد وہ تعلق اور نسبت ہے جو مالک اور غلام کے درمیان ہوتی ہے اور اس تعلق کا حق دار آزاد کر نے والا ہی ہوتا ہے، یہ حدیث بہت زیادہ فوائد پر مشتمل ہے، بعض محدثین نے اس کی شرح میں مستقل کتابیں لکھی ہیں۔