سنن ابن ماجه
كتاب العتق— کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمُكَاتَبِ باب: مکاتب غلام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2519
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أُوقِيَّاتٍ فَهُوَ رَقِيقٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو ، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے ، تو وہ غلام ہی رہے گا “ ( جب تک پورا ادا نہ کر دے ) ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اوقیہ: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، جو تقریباً ایک سو اٹھارہ گرام کے مساوی ہوتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مکاتب غلام کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے، تو وہ غلام ہی رہے گا “ (جب تک پورا ادا نہ کر دے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2519]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے، تو وہ غلام ہی رہے گا “ (جب تک پورا ادا نہ کر دے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2519]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
غلام اور آزادی کے لیے بہت سے شرعی مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس لیے جو شخص ابھی پوری آزادی حاصل نہیں کرسکا اس کے وہ مسائل غلاموں والے ہی نافذ ہونگے۔
(2)
جب مکاتب ادائیگی مکمل کردے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے اس پرآزاد افراد والے قانون نافذ ہوں گے۔
فوائد و مسائل:
(1)
غلام اور آزادی کے لیے بہت سے شرعی مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس لیے جو شخص ابھی پوری آزادی حاصل نہیں کرسکا اس کے وہ مسائل غلاموں والے ہی نافذ ہونگے۔
(2)
جب مکاتب ادائیگی مکمل کردے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے اس پرآزاد افراد والے قانون نافذ ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2519 سے ماخوذ ہے۔