حدیث نمبر: 2515
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ أَمَتُهُ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لونڈی اپنے مالک کا بچہ جنے ، تو وہ مالک کے مر جانے کے بعد آزاد ہو جائے گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب العتق / حدیث: 2515
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, حسين بن عبد اللّٰه: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6023 ، ومصباح الزجاجة : 891 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/303 ، 317 ، 320 ) ، سنن الدارمی/البیوع 38 ( 2616 ) ( ضعیف ) » ( سند میں حسین بن عبد اللہ متروک راوی ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 1771 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 1234

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1234 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مدبر، مکاتب اور ام ولد کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس لونڈی نے اپنے آقا و مالک کے نطفہ سے بچہ جنا تو وہ مالک کی وفات کے بعد آزاد ہے۔ ‘‘ اس کی روایت ابن ماجہ اور حاکم نے ضعیف سند سے کی ہے اور ایک جماعت نے اس کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1234»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، العتق، باب أمهات الأولاد، حديث:2515، والحاكم:2 /19 وصححه، فتعقبه الذهبي بقوله: "حسين بن عبدالله متروك" وتلميذه عنعن.»
تشریح: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دیگر دلائل سے یہی مسئلہ راجح اور درست معلوم ہوتا ہے کہ ام ولد اپنے آقا کی وفات کے بعد ازخود آزاد ہو جاتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1234 سے ماخوذ ہے۔