حدیث نمبر: 2510
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «رکاز» میں پانچواں حصہ ( بیت المال کا ) ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللقطة / حدیث: 2510
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6129 ، ومصباح الزجاجة : 889 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/314 ، 3/180 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جس شخص کو دفینہ (رکاز) مل جائے اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " «رکاز» میں پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2510]
اردو حاشہ:
فائدہ: «رکاز» سے مراد زمین میں مدفون خزانہ ہے جس کا مالک معلوم نہ ہو سکے اور غالب امکان ہو کہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے سے پہلے کا ہے۔
اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال کو ادا کیاجائے گا اوریہ ادائیگی فوراً ہو گی۔
ایک سال پورا ہونے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔
باقی مال اس کی ملکیت ہوگا جسے ملا۔
موجودہ دور میں بعض ملکوں میں حکومت کا پورے مال پرقبضہ کرلینا خلاف شریعت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2510 سے ماخوذ ہے۔