حدیث نمبر: 2502
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا شعلہ ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی جو کوئی اس کی خبر نہ کرے بلکہ اسے ہضم کرنے کی نیت سے چھپا رکھے تو اس کے بدلے میں یہ جہنم کی آگ کا مستحق ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللقطة / حدیث: 2502
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 422 | معجم صغير للطبراني: 423

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´گم شدہ اونٹ، گائے اور بکری کے لقطہٰ کا بیان۔`
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا شعلہ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2502]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
«ضالة» سےمراد وہ جانور ہے جو اپنے ریوڑ سے الگ ہو کر گم ہوگیا اورمعلوم نہ ہو کہ کس کا ہے۔
اس پر قبضہ کرنا جائز نہیں۔

(2)
بے جان چیز (مثلاً: رقم وغیرہ)
گری پڑی مل جائے تو اسے (لقطة)
کہتےہیں۔
اس کا بیان اگلے باب میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2502 سے ماخوذ ہے۔