حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَر ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قُلْنَا لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَبِرْنَا ، وَنَسِينَا ، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ` ہم نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں ، تو وہ کہنے لگے : ہم بوڑھے ہو گئے ہیں ، ہم پر نسیان غالب ہو گیا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا مشکل کام ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب السنة / حدیث: 25
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3674 ، ومصباح الزجاجة : 11 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/370 ، 372 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط۔`
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں، تو وہ کہنے لگے: ہم بوڑھے ہو گئے ہیں، ہم پر نسیان غالب ہو گیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا مشکل کام ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 25]
اردو حاشہ: (1)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حدیث نبوی کو بہت اہم اور عظیم چیز سمجھتے تھے۔
اس لیے صرف وہی بات روایت کرتے تھے جو اچھی طرح یاد ہوتی۔

(2)
اس سے محدثین نے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ ایک عالم کو جب بڑھاپے کی وجہ سے احادیث بیان کرنے میں غلطیاں ہونے لگیں تو اس کے لیے روایت حدیث ترک کر دینا مناسب ہے۔

(3)
علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اپنی تقریروں اور خطبوں میں صرف وہی احادیث بیان کریں جن کے بارے میں انہیں یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ وہ صحیح یا حسن درجے کی ہیں اور ضعیف روایات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 25 سے ماخوذ ہے۔