سنن ابن ماجه
كتاب الشفعة— کتاب: شفعہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ بَاعَ رِبَاعًا فَلْيُؤْذِنْ شَرِيكَهُ باب: جائیداد بیچتے وقت اپنے شریک کو خبر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2493
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانَ ، وَالْعَلَاءُ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَأَرَادَ بَيْعَهَا فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى جَارِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کو بیچنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے اپنے پڑوسی پر پیش کرے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: باب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی یا شریک نہ خریدنا چاہے تب دوسروں کے ہاتھ بیچے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جائیداد بیچتے وقت اپنے شریک کو خبر دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کو بیچنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے اپنے پڑوسی پر پیش کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2493]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کو بیچنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے اپنے پڑوسی پر پیش کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2493]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب دو آدمی ایک زمین یا مکان کے مشترکہ طورپرمالک ہوں اورایک آدمی اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تواسے چاہیے کہ پہلے اپنے اس ساتھی کو بتائے جو اس کے ساتھ شریک ہے اگر وہ مناسب قیمت پرخریدنے پر رضا مند ہو تو ٹھیک ہے ورنہ کہہ وه دے کہ میں نہیں خریدنا چاہتا جسے چاہو فروخت کردو۔
(2)
اگر راستےجدا جدا ہیں اورشراکت یا حصہ نہیں بھی ہے محض ہمسائیگی ہے تو پھر بھی ہمسایہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ مکان یا زمین بیچتے وقت اسے بتایا جائےتاکہ وہ چاہے تو خرید لے۔
(3)
شفعہ کے قانون کی بنیاد باہمی ہمددردی پر ہے کیونکہ عموما ہمسائے کو اس قطعہ زمین کےخریدنے سے اجنبی کی نسبت زیادہ فوائدہ حاصل ہوتے ہیں جب کہ بیچنے والے کے لیے ہمسائے کے ہاتھ بیچنا یا اجنبی کے ہاتھ فروخت کرنا برابرہے لہٰذا اگر ہمسائے کو زائد فائدہ حاصل ہو جائے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
جب دو آدمی ایک زمین یا مکان کے مشترکہ طورپرمالک ہوں اورایک آدمی اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تواسے چاہیے کہ پہلے اپنے اس ساتھی کو بتائے جو اس کے ساتھ شریک ہے اگر وہ مناسب قیمت پرخریدنے پر رضا مند ہو تو ٹھیک ہے ورنہ کہہ وه دے کہ میں نہیں خریدنا چاہتا جسے چاہو فروخت کردو۔
(2)
اگر راستےجدا جدا ہیں اورشراکت یا حصہ نہیں بھی ہے محض ہمسائیگی ہے تو پھر بھی ہمسایہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ مکان یا زمین بیچتے وقت اسے بتایا جائےتاکہ وہ چاہے تو خرید لے۔
(3)
شفعہ کے قانون کی بنیاد باہمی ہمددردی پر ہے کیونکہ عموما ہمسائے کو اس قطعہ زمین کےخریدنے سے اجنبی کی نسبت زیادہ فوائدہ حاصل ہوتے ہیں جب کہ بیچنے والے کے لیے ہمسائے کے ہاتھ بیچنا یا اجنبی کے ہاتھ فروخت کرنا برابرہے لہٰذا اگر ہمسائے کو زائد فائدہ حاصل ہو جائے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2493 سے ماخوذ ہے۔