حدیث نمبر: 2492
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ نَخْلٌ أَوْ أَرْضٌ فَلَا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس کھجور کے درخت ہوں یا زمین ہو تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے ، جب تک کہ اسے اپنے شریک پر پیش نہ کر دے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الشفعة / حدیث: 2492
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن النسائی/البیوع 78 ( 4650 ) ، ( تحفة الأشراف : 2765 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساقاة 28 ( 1608 ) ، سنن ابی داود/البیوع 75 ( 3513 ) ، مسند احمد ( 3/312 ، 316 ، 357 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1608 | سنن نسائي: 4704

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1608 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
0 [صحيح مسلم، حديث نمبر:4127]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ربعة يا ربع: گھر، مسکین یا زمین ہے، اصل میں اس گھر کو کہتے ہیں، جس میں انسان موسم بہار میں رہتا ہے، پھر ہر گھر پر اطلاق کرنے لگے، اور بعض دفعہ زمین کو بھی ربع کہہ دیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1608 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4704 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کھجور کے درخت میں حصہ داری اور شرکت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں اگر کسی کے پاس کوئی زمین یا کھجور کا درخت ہو تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اپنے حصہ دار و شریک سے نہ پوچھ لے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4704]
اردو حاشہ: ’اپنے شریک پر یہیں پر باب سے تعلق ہے کہ شریک تبھی بنے گا اگر دونوں اس کے مشترکہ مالک ہوں گے۔ اس مسئلے کی مزید تفصیل اور وضاحت جاننے کے لیے دیکھیے، حدیث: 4650 کے فوائد ومسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4704 سے ماخوذ ہے۔