حدیث نمبر: 2486
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل الْمَكِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَفَرَ بِئْرًا فَلَهُ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا عَطَنًا لِمَاشِيَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہو گی ، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی کنویں کی ہر جانب چالیس ہاتھ تک اس کا علاقہ ہو گا کیونکہ عادتاً اتنی جگہ جانوروں کے لئے کافی ہو جاتی ہے، اور بعضوں نے کہا یہ جب ہے کہ کنویں کی گہرائی چالیس ہاتھ ہو اگر اس سے زیادہ ہو تو اتنے ہی ہاتھ ہر طرف جگہ ملے گی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2486
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9655 ، ومصباح الزجاجة : 876 ) ، سنن الدارمی/البیوع 82 ( 2668 ) ( حسن ) » ( سند میں اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف راوی ہیں ، اور حسن بصری مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، لیکن شاہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 251 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 781

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کنویں کی چوحدی (رقبہ) کا بیان۔`
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہو گی، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2486]
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل: (1)
اونٹوں کوپانی پلایا جاتا ہے تو ایک دفعہ پانی پی کروہ کنویں کے قریب بیٹھ جاتے ہیں پھر کچھ وقت کے بعد دوبارہ پانی پیتے ہیں اس مقصد کےلیے کنویں کےقریب جگہ مختص کی جاتی ہے۔

(2)
جو شخص ایسی جگہ کنواں کھودتا ہے جو کسی کی ملکیت نہیں تو وہ کنواں اور اس کے قریب کی چالیس ہاتھ جگہ اس کی ملکیت ہوجاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2486 سے ماخوذ ہے۔